خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 194
خطبات طاہر جلد 13 194 خطبہ جمعہ فرموده 11 / مارچ 1994ء یہ میری شان نہیں ہے کیونکہ میں تو اپنے آپ کو ہرگز اس لائق نہیں سمجھتا میں اس خلافت کے دور کی بات کر رہا ہوں۔اس خلافت کے آغاز سے جس پہ خدا نے مجھے قائم فرمایا۔اس خلافت کے بعد سے وہ ساری تاریخ 1982 ء سے لے کر آخر تک دہرائی جارہی ہے اور دہرائی جائے گی۔وہ ساری برکتیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کواللہ تعالیٰ نے عطا کرنی شروع کی تھیں یا اسی دور سے تعلق رکھتی ہیں۔سب اس میں شریک ہیں۔میں نہیں، آپ سب۔وہ ساری جماعت جس کو خدا نے آغاز سے لے کر آخر تک کے لئے ان برکتوں کو دیکھنے کے لئے چن لیا ہے۔اللہ بہتر جانتا ہے ہم میں سے کتنے ہیں جو کتنی برکتیں دیکھیں گے۔مگر دعا ہمیں یہی کرنی چاہئے کہ ہم میں سے بھاری تعداد ایسی ہو جو 1982ء سے لے کر آخر تک کم از کم 2008 ء سال تک زندہ رہ کر اللہ کے فضلوں کے گواہ بنتے رہیں اور یہ وہ مبارک عظیم دور ہے جس میں سے ہم گزر رہے ہیں اس کے شکر کا حق کیسے ادا ہوسکتا ہے۔ناممکن ہے۔یہ وہ جادو ہے جو میں کہ رہا ہوں جس کے نشے میں ہم چل رہے ہیں اور یہی وہ جادو ہے جو حقیقت بن کر دنیا کی تقدیر بدلے گا۔آپ پر اس جادو کا نشہ طاری ہے تو یا درکھیں کہ پھر اس سے دنیا میں بھی تبدیلیاں پیدا ہوں گی۔اس روح کے ساتھ آپ ترقی کی اس راہ پر آگے سے آگے بڑھتے چلے جائیں۔دشمن تکلیفیں پہنچاتا ہے پہنچاتا رہے فضلوں کی راہ نہیں روک سکتا نہیں روک سکتا نہیں روک سکے گا۔جو چاہے کرلے لیکن آپ وفا کے ساتھ اس راہ پر قدم رکھتے رہیں۔اس سے قدم ہٹائیں نہیں۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہر آنے والا دن ہمارے لئے اور برکتیں لے کے آئے گا۔ہر آنے والا ہفتہ ہمارے لئے اور برکتیں لے کے آئے گا۔ہر آنے والا مہینہ ہمارے لئے اور برکتیں آسمان سے انڈیلے گا۔ہر آنے والا سال برکتوں کے ساتھ ہمارا خیر مقدم کرے گا۔ہر جانے والا سال برکتیں چھوڑ کر ہمارے لئے جائے گا۔یہ عظیم دور ہے جس میں سے ہم اصلى الله گزر رہے ہیں۔پس خدا کے شکر کے گیت گاتے ہوئے اس کی حمد و ثناء کرتے ہوئے محمد مصطفی میت کے پر دردو بھیجتے ہوئے آگے سے آگے بڑھتے چلے جاؤ، کوئی نہیں جو تمہاری راہ روک سکے۔آمین خطبہ ثانیہ کے بعد حضور انور نے فرمایا۔وہ جو باہر کے ملکوں میں اس وقت جمعہ کا خطبہ سن رہے ہیں ان کی اطلاع کے لئے میں بتاتا ہوں کہ وہ جو جشن کے عالمی پروگرام ہیں ان کی کچھ جھلکیاں انشاء اللہ جمعہ کے بعد بھی دکھائی جائیں گی اس لئے ٹیلی ویژن فور بند کر کے رخصت نہ ہو جائیں۔