خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 186
خطبات طاہر جلد 13 186 کوشش کریں تو پھر اللہ مددفرمائے گا۔ہر توفیق اسی سے ملتی ہے۔خطبہ جمعہ فرمودہ 11 / مارچ 1994ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سوال ہوا تھا کہ جمعہ کے دن یا جمعۃ الوداع کے دن لوگ تمام گزشتہ نمازیں جو ادا نہیں کیں ، پڑھتے ہیں کہ ان کی تلافی ہو جائے۔اس کا کوئی جواز ہے کہ نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ: یہ ایک فضول امر ہے مگر ایک دفعہ ایک شخص بے وقت نماز پڑھ رہا تھا کسی شخص نے حضرت علی کو کہا کہ آپ خلیفہ وقت ہیں اسے منع کیوں نہیں کرتے۔فرمایا کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اس آیت کے نیچے ملزم نہ بنایا جاؤں 66 ارَعَيْتَ الَّذِى يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى، کہ کیا تو نے اس شخص کا حال نہیں دیکھا ینھی عَبْدًا إِذَا صَلَّی خدا کے بندوں کو روکتا ہے جب وہ نماز پڑھتے ہے۔تو ان نمازوں کی تائید میں کچھ نہیں فرمایا یہ نہیں فرمایا کہ کرنے دو ٹھیک ہے عمر بھر کی چھٹی ہوئی نمازیں پڑھ لے گا تو ٹھیک ہے فرمایا نہیں ہوگا ٹھیک مگر مجھ میں یہ جرات نہیں کہ کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور اس سے روک دوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ہاں اگر کسی شخص نے عمد انماز اس لئے ترک کی ہے کہ قضائے عمری کے دن پڑھ لوں گا تو اس نے ناجائز کیا ہے اور اگر ندامت کے طور پر تدارک مافات کرتا ہے تو پڑھنے دو۔اگر شرمندہ ہوا ہے اس کو احساس ہی بہت بعد میں ہوا ہے اور سمجھتا ہے کہ مجھے تو ہوش اب آئی ہے جب کہ بہت کچھ میں اپنی عمر کا حصہ ضائع کر بیٹھا اور وہ نمازیں جو میں نے نہیں پڑھیں میں کسی طرح ان سب کو دہرا لوں تو فرمایا اگر یہ ندامت کے جذبے سے بات پھوٹی ہے، اگر شرمندگی کا احساس ہے تو پھر پڑھنے دو، ہو سکتا ہے اللہ اس ندامت کو قبول فرمالے، ہمیں اس سے کیا۔ہمارا یہ کام نہیں کہ اس میں دخل دیں۔فرماتے ہیں: پڑھنے دو کیوں منع کرتے ہو۔آخر دعا ہی کرتا ہے ہاں اس میں پست ہمتی ضرور ہے۔“ یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔کم ہمتی کا کام ہے جو وقت نمازوں کے مقرر تھے ان کو تو کھو دیا