خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 185
خطبات طاہر جلد 13 185 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 / مارچ 1994ء ایک چیز کو جو بیچ میں ٹوٹ گئی ہو دوسری کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ایک شخص نجات تک پہنچتے پہنچتے رہ گیا ہے اور کچھ فاصلہ بیچ میں ہے تو رحم کرتے ہوئے شفقت فرماتے ہوئے وہاں سے اس رسی کو پکڑا جائے اور شفاعت سے جوڑ دیا جائے یعنی اس مقام سے جوڑ دیا جائے جہاں جا کے اس نے نجات پا لینی تھی یعنی دو چار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا ہو اور انسان کی طاقت ختم ہو جائے وہاں تک نہ پہنچ سکے تو او پر سے ایک ہاتھ آئے اور اسے اٹھا کر بام تک پہنچا دے یعنی چھت تک پہنچا دے یہ شفاعت ہے۔تو جمعہ کے دن جو آئے گا اسی کو شفاعت ملے گی کیونکہ شفاعت جمعہ کے دن ہی بانٹی جائے گی جو جمعہ سے غیر حاضر ہیں ان بے چاروں کوتو پتا ہی نہیں کہ شفاعت ہوتی کیا ہے۔پس وہ لوگ جو شفاعت کی تمنار کھتے ہیں ان کے لئے اور بھی زیادہ ضروری ہے کہ وہ جمعہ سے خاص تعلق قائم کریں۔اور پھر حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ یہ وہ دن ہے کہ سب خدا کے مقرب اس دن سے ڈرتے ہیں اور فرشتے بھی اور ہوائیں اور پہاڑ اور سمندر بھی۔یہ کیا وجہ ہے؟ اس دن میں وہ کون سی ہیبت پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے لوگ اس دن سے خوف کھاتے ہیں ؟ یہاں دراصل خوف کھانا احترام کے معنوں میں ہے۔اس دن کا مرتبہ اتنا ہے کہ اس دن کی بے حرمتی سے ڈرتے ہیں یہ مراد ہے ورنہ تو اس کے کوئی معنی نہیں بنیں گے۔ایک طرف برکتیں بیان کی جاری ہوں اور کشش پیدا کی جاری ہو ، لوگوں کو بلایا جارہا ہو ، آؤ اس دن سے برکتیں پاؤ اور دوسری طرف یہ اعلان ہو رہا ہو کہ بہت خطرناک دن ہے۔خبردار ! بڑے بڑے مقرب اور فرشتے بھی اس دن سے ڈر جاتے ہیں۔پہاڑ بھی ڈرتے ہیں اور سمندر بھی ڈرتے ہیں اور زمین کی سطح بھی ڈرتی ہے۔تو یہ اعلان سوائے اس کے اور کوئی معنی نہیں رکھتا کہ اس دن کی حرمت سے ڈرتے ہیں۔یہ دن جو محترم بنایا گیا ہے اس کی عزت اور اس کے احترام کے قیام میں جو کو تا ہی ہو سکتی ہے اس سے ڈرتے ہیں۔وہ ڈرتے ہیں کہ یہ نہ ہو کہ اس دن کے ہم تقاضے پورے نہ کر سکیں۔پس یہ مراد ہے کہ اگر مقربین کو بھی خوف ہے کہ اس دن کے تقاضے پورے کرنے میں اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان کو توفیق ملتی ہے کہ نہیں تو عامتہ المسلمین ، عام انسان کو تو اور بھی زیادہ ڈرنا چاہئے کیونکہ اس سے تو اس دن کے تقاضے پورے کرنا بظاہرممکن دکھائی نہیں دیتا، اس کی طاقت سے بڑھی ہوئی بات دکھائی دیتی ہے۔پس یہ بھی اللہ ہی کے فضل کے ساتھ عطا ہوتا ہے۔اگر آپ دعائیں کرتے رہیں اور اس مضمون کو سمجھ کر جمعہ کی عظمت اور احترام کو قائم کرنے کی