خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 13
خطبات طاہر جلد 13 13 خطبه جمعه فرموده 7 / جنوری 1994 ء سستی کا پہلو بھی ہے، تکبر کا پہلو بھی ہے اور یہ دونوں باتیں انسان پر آگ واجب کر دیتی ہیں۔اس لئے فرمایا کہ میں آگ سے پناہ مانگتا ہوں اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔قبر کے عذاب سے“ کا ذکر اس لئے فرمایا گیا ہے کہ نیند کوموت کے ساتھ ایک مشابہت ہے اور موت کی جو کیفیت قبر کی حالت میں ہوگی وہ ایک نیم جاگنے اور نیم سونے کی سی کیفیت ہے تو سوتے وقت کو قبر کے وقت کے مشابہ قرار دینا بھی ایک بہت فصاحت و بلاغت کا کلام ہے۔سونے سے پہلے موت کا خیال آنا لیکن عارضی موت کا۔ابھی پوری طرح موت اپنے تمام عوارض کے ساتھ آگے نہیں بڑھی۔قبر کی حالت وہ ہے جو اگلی دنیا کے لئے پہلی تیاری کا حکم رکھتی ہے اور جس طرح ہمارے لئے نیند ہے اسی طرح اگلی دنیا کی جاگ سے پہلے قبر کی حالت ہے تو فرمایا میں قبر کے عذاب سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں۔پھر ترمذی کتاب الدعوات ہی سے حذیفہ بن الیمان کی یہ حدیث لی گئی ہے وہ عرض کرتے ہیں کہ ”جب نبی کریم سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنے ہاتھ سر کے نیچے رکھتے اور پھر عرض کرتے۔اے میرے اللہ مجھے اس دن کے عذاب سے بچانا جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا یا اٹھائے گا۔“ ( ترمذی کتاب الدعوات حدیث نمبر: 3320) اب اس کا بھی اسی مضمون سے تعلق ہے۔سونے سے پہلے چونکہ انسان پر ایک قسم کی موت طاری ہونے والی ہوتی ہے۔اللهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا (الزمر: 43) یہی مضمون ہے قرآن کریم کا جس کو حدیث میں مختلف دعاؤں میں ڈھالا جا رہا ہے کہ ہم ایسی حالت میں جارہے ہیں کہ موت سے کچھ مشابہت ہو رہی ہے اور موت سے تعلق میں سب سے زیادہ پہلا خیال انسان کو قبر کے عذاب یا آگ کے عذاب کا آنا چاہئے کیونکہ یہی دو بدانجام ہیں جو انسان کو موت کے بعد ملا کرتے ہیں۔تو بد انجام سے پناہ کے وقت پناہ حاصل کرنے کے لئے بہت ہی اچھا موقع ہے کہ سونے سے پہلے انسان یہ دعائیں کرے۔پھر اسی کیفیت کی ایک اور دعا کتاب الدعوات ہی میں حذیفہ ابن الیمان سے مروی ہے۔وہ یہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم کہ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو کہتے ”اے اللہ تیرے نام کے ساتھ مرتا ہوں اور تیرے نام کے ساتھ جیتا ہوں۔یہاں بھی وہی مضمون ہے کہ ایک عارضی موت میں سے