خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 181
خطبات طاہر جلد 13 181 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 مارچ 1994ء لوگ جو آج اس جمعہ کی برکت ڈھونڈنے کے لئے جوق در جوق مساجد کی طرف آئے ہیں ان کو اندر جگہ نہیں ملی تو باہر گلیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں ان سب تک ، جن تک بھی یہ آواز پہنچے، میں یہ پیغام پہنچا تا ہوں کہ ہماری عبادت روز مرہ کی پانچ وقت کی عبادت ہے اور ہر دفعہ جب اذان کی آواز بلند ہوتی ہے تو مومن کا فرض ہے کہ اپنے گھروں کو چھوڑے اور مسجد کی طرف چل پڑے جہاں سے عبادت کے لئے بلایا جا رہا ہے۔حى على الصلواة۔حتى على الصلواة۔حتى على الفلاح۔حتى على الفلاح۔پانچ مرتبہ یہ آوازیں سنتے ہو کہ دیکھو نماز کی طرف چلے آؤ نماز کی طرف چلے آؤ۔کامیابیوں کی طرف چلے آؤ، کامیابیوں کی طرف چلے آؤ اور پھر بھی جواب نہیں دیتے۔پس وہ لوگ جن کو مساجد تک پہنچنے کی توفیق ہے اور توفیق کا معاملہ بندے اور خدا کے درمیان ہے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ فلاں کو توفیق ہے یا نہیں ہے۔بعض دفعہ ایک بیماری دوسرے کو دکھائی دے نہیں سکتی۔ایک آدمی کہتا ہے کہ میں بیمار ہوں وہیں انسان کا قدم رک جانا چاہئے کہ ٹھیک ہے اگر تم بیمار ہو تو تمہارا معاملہ تمہارے خدا کے ساتھ اور ہمارا معاملہ ہمارے خدا کے ساتھ لیکن ہر شخص خود جانتا ہے کہ اسے توفیق ہے کہ نہیں۔پس جسے بھی توفیق ہے اس کا فرض ہے کہ پانچ وقت مساجد میں جا کر عبادت بجالائے اور اگر پانچ وقت مساجد میں نہیں جا سکتا تو جہاں اس کو توفیق ہے وہیں مسجد بنالے۔جہاں اس کے لئے ممکن ہو با جماعت نماز پڑھے یا پڑھائے اور اپنے ساتھ اپنے عزیزوں کو یا دوسروں کو اکٹھا کر لے تا کہ اس کی نمازیں باجماعت ہو جائیں۔جو شخص اس بات کا عادی ہو جائے گا، جس کے دل میں ہر وقت یہ طلب اور بے قراری ہو کہ میری ہر نماز با جماعت ہو جائے اس کے لئے خوشخبری ہے کہ وہ نمازیں جو با جماعت ممکن نہیں ہوں گی ان کے متعلق حضرت محمد رسول ﷺ کا فرمان ہے کہ اگر وہ اذان دے کر باجماعت نماز کی نیت سے کھڑا ہو جائے گا کوئی اور اس کے ساتھ شامل ہونے والا نہ بھی ہوگا تو اللہ آسمان سے فرشتے اتارے گاوہ اس کے پیچھے نماز ادا کریں گے اور اس کی نماز نماز با جماعت ہی رہے گی۔تو یہ وہ برکت ہے جو ہر روز پانچ دفعہ آپ کے سامنے آتی ہے اس سے منہ موڑ لیتے ہیں اور سال میں ایک دفعہ جو جمعہ آ رہا ہے اس کی طرف توجہ ہے کہ وہی دن ہمارے گناہ بخشوانے کا دن ہے اور کیا پتا کوئی کس دن مرتا ہے یہ بھی تو سوچو! کیا ضرور جمعہ کے معا بعد بخشوانے کے بعد ہی تم نے مرنا ہے حالانکہ جمعتہ الوداع کے ساتھ کسی بخشش کا ذکر مجھے تو نہیں ملا۔لیکن