خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 180 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 180

خطبات طاہر جلد 13 180 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 / مارچ 1994ء رحمتوں اور برکتوں کے متعلق رضوان اللہ کے متعلق اور ایک وہ ہے جو عام دنیا میں رائج ہے اور مسلمان سمجھتے ہیں کہ یہی ایک گر ہے نجات پانے کا۔ان دونوں میں کتنا فرق ہے۔۔حقیقی نجات خدا کی اطاعت میں ہے اور خدا کی اطاعت عبادت کے بغیر نصیب نہیں ہو سکتی۔عبادت پہلا دروازہ ہے جو اطاعت کے لئے قائم فرمایا گیا ہے۔اس دروازے سے داخل ہو گے تو پھر ساری اطاعتوں کی توفیق میسر آ سکتی ہے۔جس نے یہ دروازہ اپنے پر بند کر لیا اس کے لئے کوئی اطاعت نہیں ہے۔نماز کی اہمیت کے اوپر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے اتنا زور دیا ہے اور پھر نماز با جماعت کی اہمیت پر کہ ایک موقع پر صبح کی نماز کے بعد آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ دیکھو اس وقت بھی صبح کی نماز کے وقت کچھ لوگ ہیں جو گھروں میں سوئے پڑے ہیں اور اگر خدا کی طرف سے مجھے اجازت ہوتی تو میں یہ باقی جو نمازی تھے ان کے سروں پر لکڑیوں کے گٹھے اٹھوا تا اور ان کو ان کے گھروں میں جلا دیتا مگر مجھے اس کی اجازت نہیں ہے۔میں داروغہ نہیں بنایا گیا۔اب حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ سے بڑھ کر شفیق دل آپ کو دنیا میں ڈھونڈ نے سے کہاں ملے گا ، تصور میں نہیں آسکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ یہ فرما کر فرمایا بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمُ (التوبہ: 129) جب بھی خدا کے بندوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے یعنی اے لوگو! خدا کے بندو! عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُم اس پر تمہاری تکلیف بہت شاق گزرتی ہے یہ خطاب کا پہلا حصہ عام ہے۔پھر فرمایا جہاں تک مومنوں کا تعلق بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِیم وہ تو جیسے اللہ اپنے بندوں پر رؤف اور رحیم ہے جیسے اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے اور بار بار رحم لے کر آتا ہے اس طرح مومنوں پر تو یہ رسول رؤف بھی ہے اور رحیم بھی ہے۔اس رسول کے منہ سے کلمہ نکلا ہے کہ اگر مجھے یہ اجازت ہوتی تو میں لکڑیوں کے گٹھے اٹھوا کر ان نمازیوں کو ساتھ لے کر چلتا اور جو بے نماز ہیں ان کو ان کے ہے۔گھروں میں جلا دیتا۔دراصل اس میں ایک پیغام ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو عبادت نہیں کرتے وہ آگ کا ایندھن ہیں اور بہتر ہے کہ اس دنیا میں جل جائیں یہ نسبت اس کے کہ مرنے کے بعد کی آگ میں ڈالے جائیں۔یہ حقیقی پیغام ہے اور عبادت ہی ہے جس کے ساتھ ساری نجات وابستہ ہے۔پس وہ