خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 179 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 179

خطبات طاہر جلد 13 179 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 / مارچ 1994ء اور آج اس دن کی خاطر غیر معمولی طور پر مساجد میں اکٹھے ہو گئے ہیں ان تک یہ میری آواز پہنچے گی اور آج پہنچے گی۔پھر شاید نہ پہنچے کیونکہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ دوبارہ ان کو پھر مسجدوں میں آنے کی توفیق ملتی ہے کہ نہیں لیکن اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں ان کو بتاتا ہوں کہ جمعۃ الوداع کا کوئی خاص نقدس نہ قرآن میں مذکور ہے نہ احادیث میں مذکور ہے۔نہ سنت سے ثابت ہے نہ صحابہ کرام کے عمل سے بعد میں ثابت ہے۔پس جس دن کا آپ نے انتظار کیا تھا وہ تو اس پہلو سے خالی نکلا لیکن جمعۃ المبارک کے تقدس کا بہت ذکر ملتا ہے۔قرآن میں بھی ملتا ہے، احادیث میں بھی ملتا ہے اور یہ ہر جمعہ ہے جو ہر ہفتے آپ کے سامنے آتا ہے۔اس کے علاوہ نمازوں کے تقدس کے ذکر سے تو قرآن بھرا پڑا ہے۔جمعۃ الوداع تو سال میں ایک دفعہ آتا ہے۔جمعۃ المبارک ہر ہفتے آتا ہے اور نماز دن میں پانچ مرتبہ آتی ہے اور اس پانچ مرتبہ آنے والی چیز کا اس کثرت سے قرآن میں ذکر ہے کہ کسی اور عبادت کا اس طرح ذکر نہیں۔تو برکتوں سے بھرا ہوا نیک اعمال کا خزانہ ہے اس سے تو منہ موڑ لیتے ہو اور سارا سال ایک جمعہ کا انتظار کرتے ہو جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس جمعہ کی کوئی اہمیت کہیں مذکور نہیں ، تو کم سے کم اس جمعہ سے یہ برکت تو حاصل کر جاؤ یہ جان لو کہ عبادت ہی میں برکت ہے، عبادت ہی میں خدا تعالیٰ کے فضل ہیں ، عبادت ہی سے اس کی رضا وابستہ ہے۔عبادت ہی سے دنیا کی خیر اور آخرت کی خیر وابستہ ہے اور مومن کے لئے عبادت ہر روز پانچ مرتبہ فرض کی گئی ہے۔روزمرہ کی زندگی میں جب آپ مساجد کے پاس سے گزرتے ہیں تو اکثر آپ دیکھتے ہیں کہ مساجد بہت بڑی ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے بے وجہ اتنی بڑی مساجد بنادی گئی ہیں۔لیکن آج وہ دن ہے جب آپ کسی مسجد کے پاس سے گزر کے دیکھیں تو آپ یہ دیکھ کر حیران ہوں گے کہ مسجدوں سے نمازی چھلک چھلک کر باہر آ گئے ہیں گلیاں بھر گئی ہیں، بعض بازار بند کرنے پڑے ہیں۔لاہور ہو کر اچی ہو یا دنیا کے اور بڑے بڑے شہر وہاں مساجد کے باہر جو بازار یا ملحقہ گلیاں ہیں وہاں بعض دفعہ دیکھیں گے کہ سائبان لگائے گئے ہیں اور جگہ جگہ بلاک کر کے سڑکوں کو بند کیا گیا ہے کہ آج یہاں نمازی نماز پڑھ رہے ہیں۔یہ وہ نمازی ہیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ کو توقع ہے کہ ہر روز پانچ وقت جہاں مسجد میسر آئے وہاں جا کر نماز پڑھیں گے۔اب اس سے آپ اندازہ کریں کہ ایک وہ تصور ہے جو قرآن اور سنت کا ہے عبادتوں کے متعلق