خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 175 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 175

خطبات طاہر جلد 13 175 خطبہ جمعہ فرمودہ 4 / مارچ 1994ء اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو دوسری امتوں کی طرح اس امت میں کوئی قید نہ رکھتا مگر اس نے قیدیں بھلائی کے واسطے رکھی ہیں۔میرے نزدیک اصل یہی ہے کہ جب انسان صدق اور کمال اخلاص سے باری تعالیٰ میں عرض کرتا ہے کہ اس مہینے میں مجھے محروم نہ رکھ تو خدا تعالیٰ اسے محروم نہیں رکھتا اور ایسی حالت میں اگر انسان ماہ رمضان میں بیمار ہو جائے تو یہ بیماری اس کے حق میں رحمت ہوتی ہے کیونکہ ہر ایک عمل کا مدار نیت پر ہے۔مومن کو چاہئے کہ وہ اپنے وجود سے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں دلاور ثابت کر دے۔جو شخص کہ روزے سے محروم رہتا ہے مگر اس کے دل میں یہ نیت درد دل سے تھی کہ کاش میں تندرست ہوتا اور روزہ رکھتا اور اس کا دل اس بات کے لئے گریاں ہے تو فرشتے اس کے لئے روزے رکھیں گے بشرطیکہ وہ بہانہ جو نہ ہو۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 563) پس رمضان تو اب ہاتھ سے نکلا چلا جاتا ہے بہت سے ایسے ہمارے بیمار اور کمزور جو کسی مجبوری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکے ان کی تسلی کے لئے میں نے حضرت مسیح موعود۔علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ اقتباس آپ کے سامنے رکھا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ایسے لوگ غم نہ کریں اگر بیماری سے پہلے کی حالت میں انہیں روزے کی تمنا تھی تو ان کی بیماری کے روزے بھی ان کے حق میں لکھے جائیں گے اور اگر پہلے تمنا نہیں تھی تو بیماری کے روزے نہ رکھنے کی اجازت سے بھی وہ فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔یہ مضمون ہے جسے میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں۔رمضان کے تعلق میں ہمیں اصل میں زندگی کا فلسفہ مل گیا ہے۔اس دنیا میں جو لوگ نیکی کی تمنا رکھتے ہیں اور نیکی کرنے کی کوشش کرتے ہیں موت ان کے سفر کو ختم کر دیتی ہے مگر خدا کے نزدیک وہ نیکیاں جاری رہتی ہیں۔اسی لئے لا متناہی جزا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ روزے کی تمنا لے کر اور حسب توفیق روزے رکھتے ہوئے اگر بیماری پڑ گئی تو تمہارا عمل منقطع نہیں ہو گا خدا کے حضور لکھا جائے گا اور جزا بھی لا متناہی ہوگی۔اللہ تعالیٰ اس رمضان کی جزا تمام دنیا کے احمدیوں کے لئے اور بنی نوع انسان کے لئے ، ان کے فیض سے لامتناہی کر دے۔خدا کرے کہ جو دن کو تا ہی میں کٹ گئے ان کا نقصان ہمیں نہ