خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 171
خطبات طاہر جلد 13 171 خطبہ جمعہ فرمودہ 4 / مارچ 1994ء ہے، کوئی حرج نہیں۔لیکن یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ رمضان کے بعد بھی تمہارے منہ کی بدبو پسند ہے اور آنحضرت ﷺ کی سیرت جو سارا سال جاری رہتی تھی اس طرف توجہ نہیں کرتے۔اس کا مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ کے پاک بندے اپنے منہ کو ہمیشہ صاف ستھرارکھتے ہیں اور سوائے رمضان کی مجبوری کے ان کے منہ سے بو نہیں آتی۔یہ پہلو بھی تو دیکھیں۔اس لئے رمضان میں تو مجبوری ہے رمضان کے بعد خوب مسواک کیا کریں اور اپنے منہ کو ہمیشہ پاک صاف رکھیں منجن استعمال کریں، کلیاں با قاعدہ وضو کے ساتھ تو کرتے ہیں کھانے کے بعد بھی کیا کریں۔اس سے آپ کے دانت وغیرہ بھی ٹھیک رہیں گے اور پھر رمضان میں جب داخل ہوں گے پھر آپ کے منہ کی بو وہ بُو بنے گی جسے اللہ تعالیٰ پسند فرمائے گا۔ورنہ رمضان سے باہر بھی وہی یہ تھی تو پھر خدا کو یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ مجھے تمہارے منہ کی یو کستوری سے بہتر لگتی ہے۔کیونکہ وہ یو تو پھر تمہارے اپنے مزاج کی بُو ہے خدا تعالیٰ کی خاطر نہیں ہے۔میں نے یہ پہلے بیان کیا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے رمضان میں دنیا کے ابتلاؤں سے بچنے کو قربانی قرار دیا ہے۔چنانچہ آنحضور ﷺ فرماتے ہیں کہ روزے دار جب دنیا سے کٹ کر مسجد کا ہو رہتا ہے تو میں اسے خوشخبری دیتا ہوں کہ وہ مسجد سے باہر جو نیک کام کیا کرتا تھا ان سے محرومی کا اس کو کوئی صدمہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وہ تمام نیک کام اس کے نہ کرنے کے باوجود اس کے کھاتے میں لکھ دیئے ہیں۔تو نیکی اصل وہی ہے جو آزمائشوں میں پڑ کر دنیا کے ساتھ تعلقات کے دوران ظاہر ہورہی ہے اور اعتکاف اس نیکی کو ترقی دینے کی بات نہیں ہے اس نیکی سے عارضی طور پر خدا کے لئے ایک اور نیکی کی خاطر محروم ہونے کا نام ہے۔لیکن روز مرہ کی مومن کی زندگی وہی ہے جو تمام دنیا کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے گزرے اور اس کے ساتھ ساتھ خدا کے عائد کردہ فرائض کے تقاضے بھی پوری طرح شان کے ساتھ پورے ہوں۔یہ ہے وہ صراط مستقیم جس کے لئے ہم صلى الله روزانہ دعا کرتے ہیں۔مسلم کتاب الصیام باب فضل الصیام میں یہ روایت ہے کہ حضرت سھل بن سعد بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ایک دروازہ ہے جس کو ریان“ یعنی سیرابی کا وازہ کہتے ہیں۔اس دروازے میں سے قیامت کے دن صرف اور صرف روزہ دار جنت میں داخل