خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 167 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 167

خطبات طاہر جلد 13 167 خطبہ جمعہ فرمودہ 4 / مارچ 1994ء کہ آپ کو پوری طرح مطلع فرما دیا گیا تھا۔لیکن آپ ان باتوں کو صحابہ سے چھپا لیتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ یہ جو بیس دن کا اعتکاف ہے اس کے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا کہ کیوں کیا تھا۔مگر جب ہم ان دونوں باتوں کو جوڑ کر دیکھتے ہیں کہ پہلے دس دن کا ہوا کرتا تھا تو وہ پیچ کے عشرے سے آخری عشرے میں چلا گیا تھا اور وہ ایک اعتکاف ہیں دن کا تھا۔تو وہ جوڑ جو پیدا ہوا تھا وہاں سے آغاز تھا زیادہ سے زیادہ اعتکاف کا۔اسی زیادہ سے زیادہ اعتکاف کی حالت میں آپ نے آخری رمضان گزارا ہے۔آنحضرت ﷺ کے رمضان کی کیفیت سے متعلق کچھ روایتیں آپ کے سامنے پیش کر رہا تھا۔وہ ملتا جلتا مضمون ہے جو مختلف روایتوں میں ملتا ہے میں پھر آپ کے سامنے اس کو رکھتا ہوں۔حضرت عبداللہ ابن عباس بیان کرتے ہیں۔یہ بخاری کی حدیث ہے کہ رسول کریم ہے سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں آپ کی سخاوت اور بھی زیادہ ہو جاتی تھی جب جبرائیل علیہ السلام آپ سے ملاقات کرتے تھے اور قرآن کا دور کرتے تھے رسول اکرم علی ال دنوں تیز آندھیوں سے بھی زیادہ سخاوت فرماتے تھے۔(بخاری کتاب الصیام حدیث نمبر: 1749) حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص کی روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ان لِلصَّائِمِ عِنْدَ فِطْرِهِ لَدَعْوَةٌ مَا تُرَدُّ - کہ ہر انسان کے لئے روزہ افطار کرنے کے وقت ایک ایسی دعا کا وقت ہوتا ہے کہ وہ دعا رد نہیں کی جاتی۔افطار کے وقت عموماً خوش گپیوں میں لوگ مصروف ہو جاتے ہیں اور ایک طبعی بات ہے سارا دن پابندیوں کے بعد جب پابندی اٹھتی ہے وہ خوش ماحول میں گفت و شنید ہوتی ہے۔مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ایک ایسا وقت آ جاتا ہے جب اللہ تعالیٰ خصوصیت سے وہ دعا قبول کرتا ہے اس لئے اپنے اس وقت کو خوش گپیوں میں ضائع نہیں کرنا چاہئے۔بے تکلف گفتگو بے شک کریں لیکن دعا کو ہر وقت پیش نظر رکھیں اور دعا سے غافل نہ رہیں۔یہ جو دعا کا خاص وقت ہوا کرتا ہے اس کے پیچھے ہمیشہ حکمت ہوتی ہے۔سارا دن اللہ کی خاطر جب انسان روزہ رکھتا ہے اور تمام جائز چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے تو جب دوبارہ اللہ ہی کے نام پر انہیں شروع کرتا ہے تو جس طرح انسانی دل کی کیفیت ہوتی ہے ویسی مثال تو نہیں دی جاسکتی۔مگر اور چارہ نہیں ہے انسانی جذبات اور کیفیت کا حوالہ دیئے بغیر ہم ایک دوسرے کو بات سمجھا نہیں سکتے۔تو جس طرح کوئی انسان کسی کی خاطر کوئی کارنامہ سرانجام دے کر واپس آتا ہے تو اس کی پیٹھ پر پھر وہ تھکی دیتا ہے اور خوشی کے کلمات