خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 166 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 166

خطبات طاہر جلد 13 166 خطبہ جمعہ فرمود : 4 / مارچ 1994 ء ہوئیں اور یہ بات اعتکاف کی روح کے خلاف نہیں تھی۔جب آپ اٹھنے لگیں تو آپ نے فرمایا ٹھہرو میں بھی چلتا ہوں اور اس میں بھی ایک عجیب شان ہے آپ کے عظیم اخلاق کی۔مسجد کو اس وقت اپنا گھر بنا بیٹھے تھے۔اپنے گھر ایک باہر کا مہمان آیا تھا اس کی عزت افزائی کے لئے مسجد کے دروازے تک چھوڑنے گئے ہیں۔عجیب شان ہے۔فرمایا ٹھہر ٹھہرو، میں بھی چلتا ہوں ساتھ۔میں تمہیں وہاں تک چھوڑ نے جاتا ہوں جہاں تک میں جاسکتا ہوں اور مسجد کے دروازے پر جا کر الوداع کہا۔یہ وہی موقع ہے جس کے متعلق وہ حسنِ ظن اور بدظنی کے متعلق ایک عجیب روایت ملتی ہے اس وقت دو انصاری اس جگہ سے گزر رہے تھے جہاں مسجد کے دروازے سے وہ اندر دیکھ سکتے تھے کہ کیا ہو رہا ہے۔آنحضرت ﷺ کو دیکھا تو سلام کیا۔آپ نے فرمایا۔ٹھہر ٹھہر وابھی آگے نہیں جانا۔یہ جو میرے ساتھ خاتون کھڑی باتیں کر رہی تھیں یہ میری بیوی ہیں۔یہ صفیہ ہیں۔ان کو اس سے بہت صدمہ پہنچا کہ یا رسول اللہ ہم آپ پر بدظنی کر سکتے ہیں اور پھر وہ بھی مسجد میں اعتکاف کی حالت میں ، تو آپ نے یہ کیوں فرمایا۔تو آپ نے فرمایا کہ شیطان انسان کی رگوں میں خون میں دوڑ رہا ہے۔اس لئے تمہاری خاطر کہ کہیں خدانخواستہ تمہیں کوئی ٹھوکر نہ لگ جائے۔اس لئے میں نے تمہیں بتادیا کہ یہ کون ہے۔یہ آنحضرت ﷺ کا اعتکاف تھا۔اعتکاف میں عبادت میں بہت شدت اختیار کرتے تھے اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ کتنا سوتے تھے کتنا نہیں۔مگر روایات سے یہ پتا چلتا ہے کہ عام عبادات کے مقابل پر رمضان کی عبادت بہت زیادہ ہوتی تھی اور رمضان کے عام دنوں کی عبادت کے مقابل پر آخری عشرے کی عبادت بہت ہوا کرتی تھی۔یہ دستور آنحضرت ﷺ کا اسی طرح جاری رہا یہاں تک کہ آخری سال، جس سال آپ کا وصال ہوا ہے، اس سال کے رمضان مبارک میں آپ نے پھر ہیں دن کا اعتکاف کیا ہے۔کوئی ایسی بات آپ کو معلوم ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عام سنت سے ہٹ کر پھر پہلی سنت کی طرف واپس گئے ہیں اور دس دن کی بجائے ہیں دن کا اعتکاف کیا۔یہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے کہ آخری سال بھی ہیں دن کا ہی اعتکاف تھا اور پھر آپ کا وصال ہوا ہے۔( بخاری کتاب الاعتکاف حدیث: 1903) کچھ ایسی باتیں ہیں جن کا ہمیں معین علم نہیں ہوسکا کیونکہ بعض وحی کے ذریعے پہنچنے والی ایسی اطلاعات ہوتی تھیں جن کو شاید صحابہ کو صدمے سے بچانے کے لئے آنحضور کھل کر بیان نہیں فرماتے تھے۔وصال کے متعلق بھی مجھے قطعی یقین ہے