خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 162 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 162

خطبات طاہر جلد 13 162 خطبہ جمعہ فرمودہ 4/ مارچ 1994ء بعض نے وہاں اپنے خیمے لگالئے۔ایک موقع پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے متعلق آتا ہے کہ آپ نے اپنا خیمہ آنحضور کی اجازت سے مسجد کے صحن میں گا ڑلیا۔جب دوسری ازواج کو پتا چلا تو دیکھا دیکھی اس شوق میں کہ یہ کیوں آگے بڑھ گئی ہم بھی ساتھ شامل ہوں خود حضرت عائشہ سے سفارش کروا کر پہلے اجازت لی پھر آہستہ آہستہ اور خیمے بھی لگنے شروع ہو گئے جس کی براہ راست آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہیں لی گئی بلکہ حضرت عائشہ ہی سے اجازت لے کر کہ چلیں ہم بھی گاڑ لیں۔آپ نے فرمایا ہاں تم بھی لگا لو چنانچہ وہ خیمے لگ گئے۔آنحضرت ﷺ جب تشریف لائے اور مسجد میں خیمے دیکھے تو آپ نے فرمایا یہ کیا ہورہا ہے، یہ کیسے خیمے لگے ہوئے ہیں؟ تو بتایا گیا کہ یہ امہات المومنین کے خیمے ہیں۔آپ کی ازواج کے خیمے ہیں۔آپ نے فرمایا ان کے ہاں نیکی کا یہ تصور ہے؟ اس کو نیکی کہتے ہیں؟ نا پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔یعنی نیکی ایک طبعی خود روخواہش کے نتیجے میں تو پیدا ہوتی ہے مگر نقالی کے نتیجے میں نہیں ہوتی اور اتنا اس بات کو نا پسند فرمایا کہ اس رمضان مبارک میں اعتکاف نہیں فرمایا اور اس سال کا اعتکاف کا ناغہ شوال میں پورا کیا (ابن ماجہ کتاب الصیام حدیث : 1761 )۔آپ نے فرمایا اس حالت میں میں اس مسجد میں نہیں بیٹھوں گا اور یہ بھی آنحضرت ﷺ کی سیرت کی ایک عجیب شان ہے۔ان بیویوں کو فرما سکتے تھے کہ تم یہاں سے نکل جاؤ، خیمے اٹھا لو۔کیوں نہیں کہا؟ اس لئے کہ مسجد میں اعتکاف کا عورت کا حق تسلیم فرما چکے تھے اور یہ حق حضرت عائشہ کی صورت میں تسلیم ہو چکا تھا تو باقی بیویوں کی صورت میں کیا عذر تھا کہ ان سے کہا جاتا کہ نہیں، تمہیں اجازت نہیں ہے۔لیکن چونکہ یہ محسوس فرمایا کہ اس میں نیکی کی خواہش سے زیادہ بیویوں کے آپس کے مقابلے کا رجحان زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔اس لئے آپ نے فرمایا کہ یہ نیکی نہیں رہی کہ اس طرح اگر نقالی کرتے ہوئے نیکی اختیار کی جائے جس میں آپس کی رقابت کارفرما ہو تو فرمایا یہ نیکی نہیں رہتی اور اس پر ایک ہی فیصلہ آپ فرما سکتے تھے کہ اچھا ان کو تو نہیں ہٹا سکتا یہاں سے، میں خود ہٹ جاتا ہوں۔پس یہ عجیب ہے کہ آنحضرت ﷺ کی سیرت، اتنی گہرائی ہے اس سیرت میں کہ انسان ورطۂ حیرت میں ڈوب جاتا ہے، کیسا پاکیزہ تعلق تھا اپنی ازواج سے۔ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو ڈانٹ ڈپٹ کر اور غصے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے عجیب انداز سے کہ اس سے حقوق پر بھی کوئی ضرب نہیں پڑتی اور جو تکلیف اٹھائی وہ خود اٹھائی۔لیکن اعتکاف