خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 156 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 156

خطبات طاہر جلد 13 156 خطبه جمعه فرموده 25 فروری 1994ء ہیں اس میں نمازیں پڑھتے ہوئے جب نماز کے مضمون پر غور کریں گے تو اس وقت آپ کو سمجھ آئے گی کہ جو کچھ آپ خدا سے مانگ رہے ہیں آپ کا عملی قدم اس طرف نہیں ہے کہتے ہیں۔اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کتنی دفعہ پڑھتے ہیں؟ ہر نماز میں ہر رکعت میں لا زما پڑھنا پڑھتا ہے اور کہتے ہیں اے خدا ہمیں صراط مستقیم پر چلا۔صراط مستقیم ان لوگوں کی جن پر تو نے انعام نازل فرمائے نہ کہ ان لوگوں کی جو صراط مستقیم پر چلنے کے باوجود غضب کا مورد بن گئے یعنی اس صراط کے حق ادا نہ کئے۔آغاز میں ان کو اس راہ پر ڈالا گیا مگر اس راہ کے حقوق ادا نہ کرنے کے نتیجے میں وہ مغضوب ہو گئے۔وَلَا الضَّالین اور نہ ان کا رستہ جو اس راہ کو ہی چھوڑ بیٹھے اور گم گشتہ راہ ہو گئے۔اب سوال یہ ہے اتنی بڑی دعا کچھ تقاضے بھی کرتی ہے کہ نہیں۔ایک انسان جب یہ سوچے کہ منعم علیہ گروہ تھے کون؟ وہ کون لوگ تھے جن پر اللہ کی طرف سے انعام نازل ہوئے اور پھر اس مضمون کو اپنی ذات پر صادر کر کے دیکھے کہ مجھ میں کتنی علامتیں پائی جاتی ہیں اور پھر مغضوب علیھم کا تصور کرے۔بگڑے ہوئے یہودیوں کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔کیا کیا ان میں برائیاں تھیں۔اگر اس وقت کی تاریخ آپ کے سامنے نہیں تو اس زمانے کی تاریخ تو ہے نا؟ کیونکہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے ہمارے لئے یہ مضمون آسان کر دیا ہے۔فرمایا میری امت بھی ، جو لوگ میری طرف منسوب ہوتے ہیں ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ یہود کے زیادہ مشابہ ہو جائیں گے اور ایسے مشابہ ہو جائیں گے کہ جیسے ایک جوڑے کی ایک جوتی اس جوڑے کی دوسری جوتی کے مشابہ ہوتی ہے تو وہ علامتیں یہاں دیکھ لیجئے اس میں کون سی مشکل ہے۔جو آج کل کی بگڑی ہوئی مسلمان سوسائٹی میں جہاں جہاں خرابیاں پائی جاتی ہیں ان کو دیکھنا اور پہچاننا کوئی مشکل کام تو نہیں ہے ان میں جھوٹ ہے، ان میں دوسروں کے حقوق غصب کرنے ہیں، ان میں حرص و ہوا کی خاطر جھوٹے مقدمات بنانے ہیں، ان میں گواہیوں کے وقت جھوٹ بولنا ہے، حرص و ہوا کا اتنا غلبہ کہ جائز نا جائز کی تمیز بالکل اٹھ جائے اور جھگڑے کرنا اور گالی گلوچ کرنا اور تکلیفیں دے کر لذتیں محسوس کرنا اور اس بات پر فخر کرنا کہ ہم سے بڑا جھگڑالو کوئی نہیں۔ہم بڑے کپتے لوگ ہیں ہم ایسا کریں گے اور وہ کریں گے۔یہ چند ایک علامتیں ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔کون ان سے ناواقف ہے۔اور غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کہتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے ان علامتوں میں سے