خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 157
خطبات طاہر جلد 13 157 خطبه جمعه فرموده 25 فروری 1994 ء کوئی نہیں چھوڑنی اے اللہ لگالے زور، بنالے ہمیں نیک ، ہم نے نہیں ہٹنا اس بات سے۔یہ کیسی دعا ہے۔یہ تو گستاخی ہے۔اس لئے جب بھی آپ یہ دعا کرتے ہیں تو سوچیں تو سہی کہ کون کون سی باتیں آپ میں پائی جاتی ہیں۔شروع شروع میں چند دکھائی دیں گی کیونکہ یہ اندھیرے کا مضمون ہے۔جب روشنی سے اندھیرے کمرے میں جاتے ہیں تو ایک دم تو نہیں سب کچھ دکھائی دیتا۔آہستہ آہستہ دکھائی دیتا ہے تو پہلے آپ کو بعض موٹی موٹی برائیاں نظر آئیں گی کہ ان سے بچنا ہے۔جب وہ دیکھ لیں گے اور پہچان لیں گے اور دعا میں شامل کر لیں گے تو آپ کی پاک نیت اس دعا کی قبولیت میں مددگار ہو جائے گی اور اس کے نتیجے میں وہ برائیاں دور کرنا بہت زیادہ آسان ہو جائے گا۔کچھ آپ کی کوشش ہوگی کچھ آسمان سے فضل نازل ہوگا اور پھر جب اپنی طرف سے آپ اپنے آپ کو پاک کر لیں گے تو آنکھوں کی روشنی کچھ بڑھے گی اور اندھیروں کی ظلمت کچھ کم ہوگی اور آپ دیکھیں گے کہ او ہو یہاں تو یہ بھی ٹھو کر تھی اور یہ بھی ٹھو کر تھی۔اس سے بھی تو ہم نے پاک ہونا ہے یہ بھی تو مغضوب کی نشانیاں ہیں اور اس طرح آپ پر اپنا وجود روشن ہونے لگ جائے گا۔یہی مضمون ہے جس کا قرآن کریم بار بار اس طرح ذکر فرماتا ہے کہ وہ یعنی پاک نبی محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کی تعلیمات اور قرآن اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالنے والے ہیں۔اندھیرے موجود ہیں یہ نہ سمجھیں کہ نہیں ہیں اس سے روشنی کی طرف نکلنا یہ رستہ چاہتا ہے جو میں دکھا رہا ہوں اور صراط مستقیم پر چلتے ہوئے صراط مستقیم کی دعامانگنے کا یہ مطلب ہے جسے سمجھتے ہوئے آپ کو استغفار کے ساتھ یہ دن گزارنے چاہئیں۔پہلے اگر یہ نماز میں ضائع ہو گئیں اور ان سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔اب جو نماز میں رمضان میں آپ پڑھیں گے ان میں اس مضمون کو پیش نظر رکھتے ہوئے کوشش کریں کہ یہ تزکیہ نفس کا موجب بنیں۔جب تزکیہ نفس ہوگا تو پھر تنویر قلب تو آنی ہی آنی ہے، تنویر قلب دل کی روشنی کا نام ہے، اندھیروں کے ہوتے ہوئے تنویر کیسے ہوسکتی ہے۔یہ تو دو متضاد باتیں ہیں۔جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ( بنی اسرائیل:82 ) یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ حق آجائے اور باطل بھی وہیں ٹھہرار ہے۔اس کا برعکس یہ ہے کہ پہلے اندھیرے دور کرو تو پھر روشنی آئے گی۔پس دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آپ کا منور ہونا جو ہے یہ دراصل وہی مضمون ہے جس سے میں نے بات کا آغاز کیا تھا۔