خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 155
خطبات طاہر جلد 13 155 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 فروری 1994ء معلوم ہوتی ہے۔صوفیاء نے لکھا ہے کہ یہ ماہ تنویر قلب کے لئے عمدہ مہینہ ہے۔کثرت سے اس میں مکاشفات ہوتے ہیں۔صلوۃ تزکیہ نفس کرتی ہے اور صوم تجلی قلب کرتا ہے۔تزکیہ نفس سے مراد یہ ہے کہ نفس امارہ کی شہوات سے بُعد حاصل ہو جائے اور تجلی قلب سے مراد یہ ہے کہ کشف کا دروازہ اس پر کھلے کہ خدا کو دیکھ لئے“ (ملفوظات جلد دوم صفحہ:561) یہ بہت ہی اہم اقتباس ہے اور یہ میں مزید کھول کر بیان کرنا چاہتا ہوں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو کلام فرما رہے ہیں یہ گہرے ذاتی تجربے سے بیان فرمارہے ہیں۔کوئی سنی سنائی بات نہیں ہے بلکہ اس کی طرز بتاتی ہے کہ ایک صاحب تجربہ ہے جو ایک بہت ہی عمدہ راز کو پا گیا اور اس راز میں دوسروں کو شریک کرنے کے لئے بلا رہا ہے۔تنویر قلب کیا ہوتی ہے؟ فرمایا۔کثرت سے اس میں مکاشفات ہوتے ہیں، صوفیاء نے تو اتنا کہا ہے کہ یہ تنویر قلب کا مہینہ ہے۔تنویر قلب سے مراد ہے دل روشنی پا جائے۔پس مکاشفات ہوں، کچی خوا ہیں آئیں یا الہامات ہوں یہ ساری تنویر قلب کی علامتیں ہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اس پر مزید یہ فرمایا ہے صلوۃ تزکیہ نفس کرتی ہے یہ پہلے ہونا ضروری ہے تنویر قلب یونہی نہیں حاصل ہو جایا کرتی۔پہلے عبادتوں کو درست کرو اور نماز پڑھو گے تو وہ دل کا تزکیہ کرتی ہے۔اس کو پاک کرتی ہے۔کس طرح پاک کرتی ہے؟ نفس امارہ کی شہوات سے بعد حاصل ہو جاتا ہے۔66 إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ (العنكبوت : 165) کا مضمون ہے جو بیان فرما رہے ہیں۔فرماتے ہیں کہ جب تک فحشاء اور بنی و منکر سے تم باز نہیں آتے اس وقت تک تنویر قلب کہاں سے حاصل کر لو گے۔وہ تو بعد کا مقام ہے اور فرمایا نماز پہلے تزکیے کا کام کرتی ہے۔پس رمضان مبارک میں نماز کی طرف خصوصیت سے توجہ دینی ضروری ہے اور ایسی نماز پڑھنی چاہئے جس کے نتیجے میں انسان اپنے بدن سے بدیاں جھڑتے ہوئے دیکھ لے اپنی روح کے بدن کو پہلے کی نسبت ہلکا ہوتا ہوا دیکھ لے اور ہر انسان اگر بالا رادہ طور پر نگاہ رکھے کہ میں دیکھوں مجھے رمضان میں نمازوں نے کیا فائدہ پہنچایا تو اس کے لئے اس کی پہچان ناممکن نہیں ہے بلکہ آسان ہے۔اس لئے اس بالا رادہ کوشش میں داخل ہو جا ئیں۔یعنی رمضان میں جتنے دن باقی