خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 152
خطبات طاہر جلد 13 152 خطبه جمعه فرموده 25 فروری 1994ء طریق رائج تھا اسی کے مطابق بھی ہم بھی کچھ دیں اور اس طریق پر عمل کرنے کے لئے خصوصیت سے ان لوگوں کے لئے رستہ کھلا ہے جو اپنے تجارتی اموال ایک لمبے عرصے تک اپنے پاس روک کر رکھتے ہیں یا بہت دیر تک اپنے بینک بیلنس میں رکھتے ہیں۔یہاں تک کہ نصاب کا ایک سال گزر جاتا ہے یا وہ عورتیں ہیں جن کے پاس زیور پڑے ہوئے ہیں اور وہ اپنے غریب بہن بھائیوں کے استعمال میں ان کو نہیں لاتیں اور اپنی خوشیوں میں یعنی زیور پہننے کی خوشیوں میں ان کو شریک نہیں کرتیں ان پر بھی یہ زکوۃ عائد ہوتی ہے تو باوجود اس کے کہ وہ ٹیکس بھی زیادہ دے رہے ہیں باوجود اس کے کہ وہ چندے بھی زیادہ دے رہے ہیں۔جماعت میں ایک طبقہ ایسا ضرور ہے جو زکوۃ دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بغیر کسی میری تحریک کے وہ طبقہ از خود ز کوۃ دیتا چلا جا رہا ہے۔یہاں تک کہ جب مجھے رپورٹیں ملتی ہیں اور میں نظر رکھتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں کہ ہر سال اللہ کے فضل سے اس میں اضافہ ہو رہا ہے اور باہر کے ملکوں میں بھی ہے۔تو میں اس واسطے دوبارہ آج یاددہانی کرا رہا ہوں کہ وہ لوگ جن کا ذہن اس طرف نہیں جاتا اور اپنے دل کو جائز طور پر مطمئن کرتے ہیں ، ناجائز طور پر نہیں کہ ہم نے حکومت کے حق بھی ادا کر دیئے اور قرآن نے جو نافذ کئے اس سے بڑھ کر ادا کئے۔اللہ کا حق بھی اور اس کے بندوں اور غریبوں کا حق بھی ادا کیا اور جیسا قرآن چاہتا تھا اس کے کم سے کم مقرر کردہ معیار سے بہت بڑھ کر ادا کیا۔یہ کہہ کر دلوں کو مطمئن کرتے ہیں مگر اگر ان سے یہ سوال کیا جائے کہ کبھی زکوۃ دی ہے کہ نہیں زکوۃ کے وقت ہمیشہ ذہن میں وہی اڑھائی فیصد آئے گا اور انہی شرائط کے ساتھ آئے گا جن شرائط کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے زمانے میں اس پر عمل ہوتا تھا تو تبرک کے لئے ، برکت کی خاطر اور اپنی نیکی کو خواہشات کو ایک اور رنگ میں پورا کرنے کی خاطر ، ایک اور رنگ میں ان خواہشات کی پیاس بجھانے کی خاطر ز کوۃ کو بھی پیش نظر رکھیں۔پس ہر طرح سے بدن کی بھی زکوٰۃ دیں اور اپنے دل اور روح کی بھی زکوۃ دیں اپنے سارے وجود کی زکوۃ دیں اور یہ زکوۃ دینے کے بعد جیسا کہ زکوۃ کے مفہوم میں شامل ہے انسان کے کچھ بوجھ گر جاتے ہیں اور کچھ طاقتیں بڑھ جاتی ہیں۔زکوۃ کے نتیجے میں دو باتیں بیک وقت ظاہر ہو رہی ہوتی ہیں ایک یہ کہ بوجھ کم ہو رہے ہیں۔ایک یہ کہ انسان کی اعصابی قوتیں اور اس کی عضلاتی قو تیں بڑھ رہی ہوتی ہیں تو رمضان سے جب ایسے وجود نکلتے ہیں تو چونکہ کم بوجھ لے کر آگے بڑھنا