خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 151
خطبات طاہر جلد 13 یہاں سے پہلے خرچ شروع کریں نا۔151 خطبہ جمعہ فرمودہ 25 فروری 1994ء اپنے گھروں کی حالت درست کریں ان کے حقوق ادا کریں پھر اپنے گردو پیش پر نظر ڈالیں۔اپنے غریب بھائیوں اور ہمسایوں کے حقوق ادا کریں۔وہ جو ضرورت مند دنیا میں تکلیفوں میں مبتلا ہیں۔کشمیر کے مظلوم ہوں یا بوسنیا کے مظلوم ہوں، ان کی طرف پہلے سے بڑھ کر توجہ کریں۔صدقات کے لئے ہاتھ کھولیں۔چندوں میں آگے بڑھیں اور زکوۃ اگر چہ ان معنوں میں فرض نہیں ہے جن معنوں میں قرآن کریم میں مذکور ہے جن حالات میں وہ حالات آج کل ویسے صادق نہیں آ رہے اس لئے آج سے ان معنوں میں وہ فرض نہیں رہی لیکن زکوٰۃ بھی ایک چیز ہے جس کو لفظا بھی اگر پورا کیا جائے تو ایک بڑی نیکی ہے۔کیوں میں نے کہا ہے کہ ان حالات میں موجودہ حالات میں اس طرح صادق نہیں آ رہی اس کی وجہ یہ ہے کہ زکوۃ اصل میں اڑھائی فیصد چندے کا نام ہے اور زکوۃ کے مصارف میں ٹیکس بھی ہیں، حکومت کے کام بھی ہیں، ملکی مفادات کے کام بھی ہیں اور غریبوں پر خرچ بھی ہے، خدمت دین بھی ہے۔آج کل جو حکومتیں ٹیکس لیتی ہیں وہ دنیا والا حصہ تو اتنا زیادہ وصول کر لیتی ہیں کہ جن سے وصول کرتی ہیں بعض دفعہ وہ زکوۃ کے محتاج بن جاتے ہیں بے چارے، اگر وہ دیانتداری سے ادا کریں تو۔اس لئے جہاں تک ٹیکسوں کا معاملہ ہے وہ حق تو حق سے بڑھ کر ادا ہو گیا اور جہاں تک دینی ضروریات کا تعلق ہے جماعت اتنا خرچ کر رہی ہے کہ اڑھائی فیصدی کو تو اپنے سے بہت نیچے دیکھتی ہے۔ایسے چندہ دہند وہ ہیں جو ساڑے چھ فیصدی با قاعدہ دے رہے ہیں پھر اس کے علاوہ خدا کے فضل کے ساتھ دس فیصدی با قاعدہ دے رہے ہیں پھر اس کے علاوہ خدا کے فضل کے ساتھ دس فیصدی بھی دے رہے ہیں۔پھر اس سے بڑھ کر ہرا پیل پر، ہر قربانی کے رستے پر ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہوئے خرچ کرتے ہیں تو اس لئے یہ نہیں میں کہہ رہا کہ زکوۃ واجب نہیں رہی ، ان معنوں میں وہ اطلاق نہیں پا رہی کہ زکوۃ میں جتنا خرچ کرنے کی اللہ مومن سے توقع رکھتا ہے، اسی کے فضل سے، اسی کی دی ہوئی توفیق سے، جماعت احمد یہ اس سے بہت زیادہ انہی نیک کاموں پر خرچ کر رہی ہے۔خواہ وہ حساب زکوۃ کا لگائے یا نہ لگائے زکوۃ تو دے رہی ہے۔لیکن بعض دفعہ یہ بھی لطف آتا ہے کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے زمانے میں