خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 150
خطبات طاہر جلد 13 150 خطبه جمعه فرموده 25 فروری 1994ء صحیح طور پر صادق آ رہی ہیں اور اطلاق پاتی ہیں۔ہر چیز کو پاک کرنے کی ایک زکوۃ ہوتی ہے۔رمضان جسم کے ظاہر و باطن کی زکوۃ ہے، یہ مراد ہے۔یہ عجیب مہینہ ہے کہ ظاہر طور پر بھی جسم کی زکوۃ بن رہا ہے اور روحانی طور پر بھی جسم کی زکوۃ بن رہا ہے یعنی اس کے لئے روحانی طور پر جو چر بیاں چڑھی ہوئی ہیں وہ پگھلانے کے دن ہیں اور مال اور دولت جمع کرنے کے برعکس رمضان مبارک میں آنحضرت ﷺ کی سنت جو بہت کثرت سے خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی طرف ہمیں بلاتی ہے یہ اس روحانی چربی کا علاج ہے۔اس سے انسان کے اندر کئی قسم کی جو میلیں جمع ہو جاتی ہیں دنیا کی محبت کی ، وہ صاف ہوتی ہیں اور انسان پھر ایک سال کے لئے نسبتا ہلکے روحانی اور جسمانی بدن کے ساتھ دنیا میں لوٹتا ہے اور اگلے رمضان کی انتظار کرتا ہے۔کچھ ایسے ہیں جو کوشش کر کے اپنے آپ کو اسی حالت پر قائم رکھتے ہیں، کچھ ہیں جو پھر طبعا واپس لوٹتے ہیں اور پھر اگلا رمضان آتا ہے اور ان کے لئے سب برکتیں لے کر آتا اور بہت سی برکتیں پیچھے چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔اب صرف پندرہ سولہ دن باقی ہیں اس لئے جماعت کو چاہئے کہ اس پہلو سے بھی رمضان سے استفادہ کرنے کی بھر پور کوشش کریں۔یہ جو خدا کی راہ میں خرچ کرنا ہے یہ کئی طرح سے ہے۔بنیادی طور پر تو پہلے نیت درست اور صحت مند ہونی چاہئے کہ جو میں خرچ کر رہا ہوں اللہ کی خاطر کر رہا ہوں۔اس ضمن میں ایسے لوگوں کے لئے بھی موقع ہے حالانکہ بہت چھوٹی سی بظاہر بات ہے، جو اپنی بیویوں اور بچوں سے کنجوسی کرتے ہیں اور طبعا کنجوس واقع ہوئے ہیں۔اگر رمضان مبارک میں ان کو خیال آئے کہ اللہ نے کہا ہے خرچ کرو تو ہم گھر سے کیوں نہ شروع کریں۔بیوی بچوں کو بھی کچھ سہولت دے دیں۔تو بظاہر یہ بیوی بچوں پر خرچ ہے مگر ہے خدا کی خاطر اور حضرت رسول اکرم ﷺ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ خدا کی محبت میں کہ خدا راضی ہو اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ بھی ڈالو گے تو عبادت ہے۔تو یہ نیکی گھر سے شروع ہو تو دیکھو کتنے گھروں کے حالات سدھار دے گی کیونکہ مجھے اطلاعیں ملتی رہتی ہیں بعض لوگ طبیعت کے درشت ہوتے ہیں سخت مزاج اور بیوی بچوں کو کافی تنگی میں ڈالتے ہیں اور خود باہر نکلتے ہیں اور باہر ہوٹلوں ووٹلوں میں جا کے کھانا کھا آتے ہیں یا دوستوں میں بیٹھ کر اپنے چسکے پورے کر لیتے ہیں اور گھر میں وہی بے چاری سوکھی دال روٹی جس سے زیادہ کی توفیق ہے خاوند کو لیکن بیوی کو نہیں دیتا۔تو