خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 149 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 149

خطبات طاہر جلد 13 149 خطبه جمعه فرمودہ 25 فروری 1994ء اگر یہ چربی جو روحانی طور پر کسی انسان پر چڑھتی ہے اسے گھلانا ہے تو رمضان وہ گرمی لے کر آیا ہے جو اس چربی کو پگھلا دیتی ہے۔ اگر جسمانی چربی کو کم کرنا ہے تو روزے اس میں تمہارے محمد ہوں گے اور تمہیں پہلے سے بہتر حال میں چھوڑ دیں گے۔ یہ وہ مضمون ہے جس کو آنحضرت ﷺ نے اس طرح صلى الله بیان فرمایا۔ یہ حضرت ابوہریر یہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وو ہر چیز کو پاک کرنے کے لئے اس کی ایک زکوۃ ہوتی ہے اور جسم کی زکوۃ روزہ ہے ۔ ( ابن ماجہ کتاب الصیام حدیث نمبر : 1735) اب اسے صرف روح کی زکوۃ نہیں فرمایا۔ روح کی زکوۃ بھی ہے مگر یہاں خصوصیت سے جسم کی زکوۃ کا ذکر فرمایا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے یہ جامع الصغیر سے لی گئی ہے ۔ صُومُوا تَصِحُوا “ اگر تم صحت مند ہونا چاہتے ہو تو روزے رکھو۔ تمہاری ضرورت سے زائد چر بیاں پگھلیں گی اور ہلکا بدن اختیار کرنے کی توفیق ملے گی ۔ پھر فرمایا: صبر کے مہینے یعنی رمضان کے روزے سینے کی گرمی اور کدورت دور کرتے ہیں ۔ ( جامع الصغیر ) رمضان تو خود گرمی کا نام ہے پھر یہ سینے کی گرمی اور کدورت کیسے دور کرتا ہے۔ اگر خالصہ طبی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو کیلیسٹرول Cholesterol کو کم کرتا ہے جو سینے کی جلن کا موجب ہے جب وہ خون کی نالیوں میں بیٹھتا ہے اور اس کے نتیجے میں نالیاں تنگ ہوتیں اور خون دا صحیح مقدار میں پہنچتا نہیں ہے تو سینے میں ایک آگ سی لگ جاتی ہے اور آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں صلى الله کہ رمضان سے یہ فائدے بھی اٹھاؤ تمہارے سینے میں جو جلن ہوتی ہے کوئی اس کو Heart Burn کہہ رہا ہے کوئی Angina کی وجہ سے جل رہا ہے۔ کئی قسم کی بیماریاں سستیوں کے نتیجے میں انسان کو لاحق ہو جاتی ہیں۔ فرمایا ہر دفعہ رمضان کی بھٹی سے نکلو گے تو تمہاری ضرورت سے زیادہ چر بیاں پکھلیں گی اور تمہارے سینوں کو سکون ملے گا اور ٹھنڈ نصیب ہوگی اور روحانی لحاظ سے بھی یہ تینوں چیزیں اپنی جگہ