خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 134 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 134

خطبات طاہر جلد 13 134 خطبه جمعه فرمودہ 18 فروری 1994ء کی ہے اور اگر آپ اپنے آپ کا جائزہ لیں تو اس بے وقوفی میں کسی نہ کسی حد تک تقریباً ہر انسان ہی مبتلا رہتا ہے۔ بڑے گناہ نہیں چھوٹے گناہ کرتا رہتا ہے، لغویات میں مصروف رہتا ہے۔ پس روزے رکھنے میں جو جائز چیزوں کو چھوڑنا ہے اس میں یہ سبق ہے کہ جائز چھوڑ رہے ہو خدا کا خوف کرو، نا جائز کی جرات کیسے کرو گے اللہ کی خاطر تم کہتے ہو کہ ہمیں ایسا پیار ہے خدا سے اس کی خاطر حلال چیزیں چھوڑنے پر آمادہ بیٹھے ہیں اور حرام نہیں چھوڑ سکتے ۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے اس کے روزے میں کوئی دلچسپی نہیں ۔ کوئی اس کو فائدہ نہیں ہوگا ۔ پس خصوصیت سے جھوٹی بات سے پر ہیز، یہ ایک بہت ہی اہم اور عظیم نصیحت ہے اگر وہ لوگ جن کو جھوٹ کی عادت ہے اور بسا اوقات وہ جھوٹ بولتے ہیں، ان کو پتا بھی نہیں لگ رہا ہوتا کہ جھوٹ بول رہے ہیں لیکن کبھی کبھی یاد بھی آ جاتا ہے کہ ہاں ہم جھوٹے ہیں اگر خود وہ سوچیں تو پھر ان کو جھوٹ دور کرنے کی طرف توجہ پیدا ہو۔ مصیبت یہ ہے کہ جب کوئی دوسرا کہے تو نہ صرف یہ کہ مانتے نہیں بلکہ غصہ کرتے ہیں اور جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم جھوٹ نہیں بولتے ۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں ۔ ایک دفعہ ہمارے ہاسٹل میں ایک لڑکا ہوا کرتا تھا وہ جھوٹا مشہور تھا اور اس سے میں نے بات کی تو کہتا ہے کہ خدادی قسم اے میں تے کدی وی جھوٹ نہیں بولیا“ کہ لوجی ”لوجی“ بھی بہت کہنے کی عادت تھی کہ لو یہ کیا بات ہوئی۔ میں اللہ کی قسم کھا کے کہتا ہوں میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور وہ جھوٹ بول رہا تھا کیونکہ ہر وقت جھوٹ بولتا تھا تو بعض لوگوں کو پتا نہیں لگتا۔ لیکن سب سے مہلک بیماری جھوٹ ہے، ہر نیکی کو کھا جاتی ہے، یہ وہ تیزاب ہے جس سے سونا بھی پگھل جاتا ہے۔ ا یکوار بیجا اس تیزاب کو کہتے ہیں جس سے سونا بھی نہیں بچتا تو یہ تو ہر نیکی کو کھانے والا تیزاب ہے اس سے بچنے کی کوشش کریں اور اپنے گھروں کو خصوصیت سے سچائی کی آماجگاہ بنائیں۔ اپنی بیویوں پر اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور اگر آپ جھوٹے ہیں تو بیوی کو چاہئے کہ وہ آپ پر نظر رکھے۔ بچے میری آواز سن رہے ہیں اور مجھے پتا ہے کہ آج کل احمدی بچوں کو بہت زیادہ شوق ہے اپنے بڑوں کی تربیت کرنے کا۔ وہ جو بات سن لیتے ہیں معصومیت سے اسے پلے باندھ لیتے ہیں اور پھر بڑے کو کرتے دیکھتے ہیں کہتے ہیں دیکھو دیکھو ہم لکھ دیں گے حضرت صاحب کو، کہ تم یہ کیا کر رہے ہو اور کئی ماں باپ مجھے لکھتے ہیں کہ ہمیں بڑا لطف آیا بات سن کر ۔ ان کی نصیحتیں ان کو پیاری بھی لگتی ہیں اور ان کے دل پر اثر