خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 130
خطبات طاہر جلد 13 130 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 فروری 1994ء رستے پر داخل ہو جاؤ جس کے آگے پھر آسمان کے دروازے لگے ہوئے ہیں۔وہ بند ہوں یا کھلے ہوں ، پھر تمہیں اس سے کیا۔پہلے اپنی زمین کے دروازے تو کھولو۔پس حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دروازوں کے حوالے سے ایک بات کی ہے اس کے مفہوم کو سمجھو اور پہلی بات کے ساتھ اس کا تعلق جوڑو۔دروازے تو کھلتے ہیں، کن کے لئے؟ رمضان میں جن کے اپنے دروازے عبادت کے لئے کھل جاتے ہیں اور رمضان ان کے لئے کھلا دروازہ بنتا ہے۔اب رمضان کو دروازہ کہنے میں یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا کہ کیوں رمضان میں بعض لوگ محروم ہو جاتے ہیں کیونکہ دروازہ کھلتا بھی ہے اور بند بھی ہو جاتا ہے۔اس کو رستہ تو نہیں فرمایا، دروازہ فرمایا ہے۔فرمایا ہے عبادت کا دروازہ مگر جس پر کھلے گا وہی توفیق پائے گا۔اگر بند دروازے سے کوئی ٹکرا کر یا اسے کھٹکھٹا کر واپس چلا گیا تو اس سے کیا فائدہ۔پس رمضان میں اپنی عبادت کی طرف بھی توجہ کریں اور اپنے بچوں کی عبادت کی طرف،اپنے ہمسایوں کی عبادت کی طرف ، اپنے گردو پیش میں عبادت کے مضمون کو بیان کریں اور عبادت ایک ایسی چیز ہے جس میں داخل ہو کر واپسی کی گنجائش نہیں ہے۔اگر عبادت میں ایک دفعہ آپ داخل ہو کر پھر باہر نکلنے کی کوشش کریں گے تو ساری عبادتیں رائیگاں جائیں گی بلکہ بعض اوقات پہلے سے بھی بدتر مقام تک پہنچ جائیں گے۔عبادت کو پکڑے رہنا، عبادت پر صبر کرنا لازم ہے۔اور اس پہلو سے ایک بہترین موقع ہے دنیا کی تربیت کا۔دنیا بھر میں جماعتوں کو بڑے مسائل میں سے ایک یہ مسئلہ درپیش ہے کہ بعض نوجوان جونئی نسلوں کے پیدا ہونے والے ہیں، نئی نسلوں کے تربیت پانے والے ہیں۔ماحول کی کثافت اور گندگی سے متاثر ہو گئے ہیں، وہ عبادتیں چھوڑ بیٹھے ہیں۔اور اس ضمن میں صرف نو جوانوں کی بحث نہیں ، بعض خواتین مجھے خط لکھ کر سب سے زیادہ درد یہ پیش کرتی ہیں کہ ہمارا خاوند ویسے ٹھیک ہے، سب کچھ ہے، ہمیں کوئی شکوہ نہیں ، مگر نماز نہیں پڑھتا۔تو اللہ تعالیٰ ان بدنصیبوں کے نصیب جگا دے، ان کے مقدر روشن فرمائے۔یہ عبادت تو ایک ایسی چیز ہے جس کے بغیر زندگی نہیں ہے۔یہ تو روز مرہ کا سانس ہے، روز مرہ کا پانی ہے، اگر عبادت نصیب نہیں تو روحانی زندگی کا کوئی تصورہی نہیں ہے۔پھر خواہ دنیا کے لحاظ سے اچھا ہو، کیسا ہی ہو، دنیا میں اسلام سے باہر بھی تو اچھے اچھے لوگ نظر آتے ہیں۔ہر مذہب میں بلکہ لا مذہب لوگوں میں بھی بعض جگہ جہاں ملائیت زیادہ ہو وہاں لا مذہب لوگوں میں زیادہ شرافت نظر آتی ہے بہ نسبت ملائیت