خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 124
خطبات طاہر جلد 13 124 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 فروری 1994ء بہت ہی مشکل کام ہے کیونکہ رمضان مبارک تمام عبادتوں کا معراج ہے عبادتوں کے اندرونی رشتوں کے لحاظ سے نماز عبادتوں کا معراج ہے لیکن رمضان مبارک میں وہ بھی اکٹھی ہو جاتی ہے اور شدت کے ساتھ پوری محنت کے ساتھ اور دل لگا کر نماز ادا کی جاتی ہے۔پس تمام عبادتیں اپنے معراج کو پہنچتی ہیں اور ایسے وقت میں ان کے تقاضے پورے کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔اس لئے آنحضرت ﷺ کا ایک طرف تو یہ ارشاد فرمانا کہ یہ کرو تو تمہارے ساتھ کیا سلوک ہوگا تمہارے پہلے گناہ معاف ہو جائیں گے گویا حج جو عبادات میں ایک خاص مرتبہ رکھتی ہے اور عمر بھر میں ایک دفعہ ادا کرنا ضروری ہے اس سے جو فوائد وابستہ ہیں، جو ثواب وابستہ ہیں وہ ایک اچھی طرح گزارے ہوئے رمضان کے ساتھ بھی وابستہ فرما دیئے گئے۔اور دوسری طرف یہ کہنا کہ فلاں بات کر دو تو تمہارے عمر بھر کے گناہ بخشے جائیں گے اور جنت کے دروازے تمہارے لئے کھل جائیں گے اور فلاں کام کر دو اور جو کام چھوٹے چھوٹے ہوں یہ بات بڑی تعجب انگیز ہے۔ایسی حدیثیں بھی حدیثوں کی تلاش میں میرے سامنے آئیں یعنی جب میں جمعہ کے لئے انتخاب کرتا ہوں روایات کا یا حوالہ جات کا تو بہت سی روایات دیکھتا ہوں اور بعض اس موضوع کے لئے چن لیتا ہوں۔بعض کو بعد کے لئے رکھ چھوڑا جاتا ہے ان میں ایسی حدیثیں بھی سامنے آتی ہیں مثلاً آج ہی ایسی حدیثیں بھی میں نے دیکھیں جن میں یہ ذکر تھا کہ روزہ کھلوا دو تو تمہارے ساری زندگی کے گناہ بخشے گئے اور تمہیں ہر قسم کے ثواب میسر آ گئے اور تمام نجات کے سامان ہو گئے اور یہ بھی بیان کیا گیا کہ صحابہ میں سے بعض نے کہا کہ ہمارے پاس تو فیق نہیں بہت شوق پیدا ہوا ہمیں تو توفیق نہیں ہے اتنی۔تو فرمایا کہ اگر کوئی تھوڑا سا دودھ اور زیادہ پانی ملا کر بھی پھر بھی کسی کا روزہ کھلوا دے تو یہی ثواب اس کو میسر آ جائے گا۔پھر دونوں باتوں کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ دوہی شکلیں عقلاً سامنے آتی ہیں اول یہ کہ بہت سی ایسی حدیثیں ہیں جو بعد کے زمانوں میں صوفیاء نے گھڑ لی ہیں اور ایسی حدیثوں کی تعداد ہزار ہا بلکہ لاکھوں تک بھی بیان کی جاتی ہے۔بعض صوفیاء کا یہ مسلک تھا کہ نیکی کی باتیں جو قرآن اور حدیث سے مطابقت رکھتی ہوں ان میں جوش پیدا کرنے کے لئے جو کہانی تم بنا لو وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرو اس نیت کے ساتھ کہ آپ کی بات لوگ مانیں گے ہماری نہیں مانیں گے تو اس میں کوئی گناہ نہیں۔