خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 123
خطبات طاہر جلد 13 123 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 فروری 1994ء جب جہنم کے دروازے ہم پر بند ہو چکے ہوں۔یہ جو مضمون ہے اس کا کوشش سے زیادہ فضل سے تعلق ہے۔کوشش سے اس حد تک کہ گہری سوچ کے ساتھ اور فکر کے ساتھ اور اس مضمون میں ڈوب کر دعا کی جائے جو معنی خیز ہو۔ہونٹوں سے نہ نکلے، دل کی گہرائیوں سے اٹھ رہی ہو اور پابندی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے اس بارے میں مدد مانگی جائے۔پس اس رمضان مبارک میں جو نصیحتیں بار بار دہرائی جاتی ہیں ان میں ایک یہ بھی نصیحت ہے۔مگر جب بھی نصیحت دہرائی جاتی ہے کوئی نیا پہلو اس کا خدا تعالیٰ سامنے لے آتا ہے اور جماعت کو اس کی طرف توجہ دلانے کی توفیق عطا ہوتی ہے۔پس اس حدیث کے حوالے سے میں اس دعا کی طرف جماعت کو متوجہ کرتا ہوں کہ یہ دعائیں کرتے رہیں کہ رمضان کی نیکیاں آ کر گز رکھی جائیں تو ہمارا انجام ایسی حالت میں ہو گویا رمضان میں مر رہے ہیں۔ایسے وقت میں ہو جبکہ تو ہم سے سب سے زیادہ راضی ہو اور اس پر ہمارا اپنا کوئی اختیار نہیں ، انسان کی بے بسی کا معاملہ ہے، اللہ ہی ہے جب چاہے جس کو بلائے اور جس حالت میں چاہے بلا لے۔اس لئے اس رمضان مبارک میں اپنے لئے اور اپنے بھائیوں کے لئے خصوصیت کے ساتھ یہ دعائیں کریں۔ایک دوسری حدیث ابوسعید خدری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو یہ کہتے سنا کہ: جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور جس نے رمضان کے تقاضوں کو پہچانا اور ان کو پورا کیا اور جورمضان کے دوران ان تمام باتوں سے محفوظ رہا جن سے اس کو محفوظ رہنا چاہئے یعنی جس نے ہر قسم کے گناہ سے اپنے آپ کو بچائے رکھا تو ایسے روزہ دار کے لئے اس کے روزےاس کے پہلے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔(مسند احمد بن حنبل بحوالہ فتح الربانی جز 9 صفحہ: 222) اس حدیث کا اس سے ملتی جلتی بعض اور احادیث سے بھی تعلق ہے اور میں ان کے حوالے سے اس مضمون کو زیادہ واضح کرنا چاہتا ہوں۔بہت سی ایسی حدیثیں ہیں جن میں آپ کو یہ ملے گا کہ ایک روزہ دار کی روزہ کشائی کر دو اور تمہارے سارے گناہ بخشے گئے ، ہمیشہ کے لئے نجات پاگئے۔سوال یہ ہے کہ ایک طرف اتنی محنت کا حکم اور ارشاد کہ تمام مہینہ بھر رمضان کے سارے تقاضے پورے کرو اور رمضان کے تقاضے پورا کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔کہنے میں آسان لگے لیکن حقیقت میں