خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 117 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 117

خطبات طاہر جلد 13 117 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 فروری 1994ء ترک کر بیٹھے تھے ان کو پورے زور اور شدت کے ساتھ دوبارہ شروع کرتے ہیں کہ چلو تھوڑا سا تو سکون ملے۔گزر گیا جو مہینہ گزرنا تھا۔اب ان کا بخشش سے کیا تعلق ہوا کیونکہ گناہوں کی بخشش کا مطلب یہ ہے کہ گناہوں کی طرف سے توجہ پھیر دی جاتی ہے گناہوں کی خواہش مٹا دی جاتی ہے اور اگر دائما نہیں تو کچھ عرصے تک تو اس کے نشان ملیں۔دنیا پھر انسان کو بھینچتی ہے اور یہ مضمون بھی ہمیں احادیث میں ملتا ہے، قرآن میں ملتا ہے بعض لوگ بار بار استغفار کرتے ہیں اور اللہ بخش بھی دیتا ہے پھر وہ آتے ہیں اپنی پرانی عادتوں کی طرف پھر خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرتے ہیں اور اسی حالت میں انسان زندگی گزار دیتا ہے پھر اللہ کی مرضی ہے انہیں کس حالت میں وفات دے اگر وہ خدا سے دوری کی حالت میں مر جائیں تو نا مرادر ہے اگر اس حالت میں خدا تعالیٰ ان کی جان لے جبکہ اس کی بخشش کے نتیجے میں وقتی طور پر گناہ کا میل بھی دھل چکا تھا، گناہ کی طرف میلان مٹ چکا تھا ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ کا بندہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ ہاں میں کامیاب ہو گیا مگر یہ تجارب بھی بار بار ہونے والے تجارب ہیں ان کے بغیر انسان یہ تصور نہیں کرسکتا۔پس دو ہی صورتیں ہیں بخشش کے یقین کی۔ایک یہ کہ رمضان آئے اور گناہوں کے سارے خیالات کو دھو کر اس طرح پرے پھینک دے جیسے حضرت رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ایک نوزائیدہ بچہ ہے۔نوزائیدہ بچہ پاک آتا ہے لیکن بد بھی ہو جاتا ہے۔اس کا بعد میں بد ہونا یہ تو ثابت نہیں کرتا کہ وہ نوزائیدہ تھا ہی نہیں مگر بد ہونے میں وقت لگتا ہے۔کتنی دیر اس کو بلوغت کا انتظار کرنا پڑتا ہے کتنی دیر ابتلاؤں اور امتحانوں میں پڑنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے اچا نک تو نو زائیدہ بچہ بد نہیں ہوا کرتا۔ایک لمبے عرصے تک بدی کی خواہش ہی نہیں ہوتی اور اکثر بدیوں سے اس لئے محروم ہوتا ہے کہ ان کا تصور بھی کوئی نہیں رہتا۔پس اگر رمضان بدیوں کو اس طرح مٹا کر جاتا ہے کہ اس کی تمنائیں مدھم پڑ جاتی ہیں یا مٹ جاتی ہیں۔وہ خواہشیں مرنے لگتی ہیں اور پھر بعد میں ان کو دوبارہ ارادۂ زندہ کرنے کی کوشش نہیں کرتا تو بعد میں ممکن ہے ایسا شخص بھی دھو کہ کھا جائے اور گر جائے لیکن عموما کہہ سکتے ہیں کہ رمضان کچھ بخشش کے سامان اس کے لئے پیچھے چھوڑ گیا۔پس اپنے لئے دعائیں کریں اور یہ دعائیں کرتے ہوئے رمضان میں داخل ہوں کہ جو