خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 6
خطبات طاہر جلد 13 6 خطبه جمعه فرموده 7 جنوری 1994 ء خوب صورت پیش کش کی ہے جو ہر ہفتے انشاء اللہ سب دنیا کی جماعتوں کو پہنچتی رہے گی اور اس سلسلے میں اگر چہ شروع میں قیمت 50P رکھی گئی ہے لیکن یہ غریب ملکوں کے لئے زیادہ ہے اور یہاں بھی اگر نسبتا کم پہ مہیا ہو سکے تو بہت بہتر ہے۔اس کے لئے ہم نے ایک الگ ٹیم بنائی ہے جو اشتہارات اکٹھے کرے گی۔اس ٹیم میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھے قابل تجربہ کار یا ویسے جوش رکھنے والے نوجوان ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ اس ٹیم کے ذریعے جوں جوں ہماری آمد بڑھے گی۔ہم ایک وقت ایسا آئے گا کہ چندے کو کم کرنا شروع کر دیں گے اور کوشش کریں گے کہ جیسا کہ ہمیشہ سے دستور رہا ہے اصل ”الفضل کبھی بھی منافع کمانے کا ذریعہ نہیں بنا بلکہ کوشش یہی رہی ہے کہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے تو الفضل بھی اور ریویو بھی اگر اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جا ئیں تو ہم پر یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اور نعمت ہے اور اس پہلو سے انشاء اللہ خریداروں پر بوجھ کم کرنے کی کوشش کی جاتی رہے گی۔ریویو" کے متعلق ایک ہفتے کی تاخیر کا مجھے بتایا گیا ہے۔بعض فنی مشکلات کی وجہ سے اس کے چھپوانے میں دیر ہو رہی ہے، اس لئے آج کی بجائے وہ اگلے ہفتہ انشاء اللہ شائع ہو گا لیکن وہ چونکہ ماہانہ رسالہ ہے اس لئے چند دن یا ہفتوں کی تاخیر سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔آئندہ کے لئے ان کا خیال ہے اور امید ہے کہ با قاعدہ ہر مہینے کے آغاز میں وہ ریویو شائع کر دیا کریں گے۔مضامین اگلے ریویو کے لئے بھی تیار ہیں اور اس کو چھپوانے کی تیاری بھی شروع ہو چکی ہے۔امید رکھتا ہوں کہ آئندہ انشاء اللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا لیکن مجھے ریویو کے متعلق جو فکر ہے وہ اس کی اشاعت کی ہے۔دس ہزار کی تعداد میں ہم نے شائع تو کر دیا یعنی ہو رہا ہے۔سوال یہ ہے کہ وہ احمدی جو انگریزی دان ہیں اور اس سے استفادہ کر سکتے ہیں، ان کے علاوہ غیروں تک پہنچانے کا کیا انتظام ہو گا۔اس سلسلے میں سب دنیا میں ایسے دانشور، صاحب اثر مخلصین خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں لیکن مخلص ان معنوں میں کہ دل کے بچے ہوں ایسے لوگوں کی تلاش ہونی چاہئے۔یہ جو مخلص کا لفظ میں نے استعمال کیا ہے یہ ہر انسان پر برابر صادق آتا ہے خواہ وہ دنیا کے کسی حصے سے تعلق رکھتا ہو، کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہوا گر وہ اپنے قول کا سچا ہے تو دیکھنے میں فوڈ اپتا چل جاتا ہے کہ کس مزاج کا، کسی سرشت کا انسان ہے۔مخلصین ہی ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں متقین کے طور پر آغاز میں کیا "