خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 110
خطبات طاہر جلد 13 110 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 فروری 1994ء اور سوال کے درمیان میں کھڑی ہے۔مراد یہ ہے کہ میں قریب ہوں تمہاری بات کا جواب دیتا ہوں اور دوں گا فَلْيَسْتَجِيبُوالی اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم بھی لازما میری باتوں کا جواب دیا کرو۔یہ نہ سمجھ لینا کہ جب ضرورت تمہیں پڑے مجھے آوازیں دو اور میں حاضر ہو جاؤں۔یہ تو آقا اور غلام کا تعلق بن گیا یعنی آواز دینے والا آقا ہو گیا اور ہاں جی حاضر سائیں کہنے والا غلام بن گیا۔اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو جانا کہ میں جب کہتا ہوں کہ ہاں میں حاضر ہوں اور جواب دیتا ہوں تو ایک نوکر کی طرح نہیں، ایک مالک کی طرح حاضر ہوں، ایک محبوب کی طرح حاضر ہوں تم میں خادمانہ ادائیں ہوں گی تو میں مالک بن کر تم پر روشن ہوں گا تم میں عاشقانہ جذبے ہوں گے تو محبوب کی طرح میں تم پر ظاہر ہوں گا اور تمہیں جلوے دکھاؤں گا۔یہ مضمون ہے فَلْيَسْتَجِیوانی کا۔وہ لوگ جو خدا کی باتیں مانتے ہیں خدا ان کی اسی طرح مانتا ہے جس طرح وہ خادم جو آقا کی ہر بات پر لبیک کہتا ہے جب اس کو ضرورت پڑتی ہے تو کون آقا ہے جو دل کی وسعتیں رکھتا ہو اور پھر اس سے انکار کر دے۔بعض بد کر دار تنگ دل لوگ ایسے بھی ہیں جو ساری عمر خدمتیں لیتے ہیں اور جب ضرورت پڑتی ہے تو منہ پھیر لیتے ہیں۔وہ اللہ توان میں سے نہیں نعوذ باللہ من ذالک اللہ فرماتا ہے تم مجھ سے عبدیت کا عبودیت کا تعلق رکھو میرے سامنے جھکو، میری باتیں مانا کرو، پھر میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ میں کبھی تم سے دور نہیں رہوں گا جب تمہیں ضرورت پیش آئے گی میں تمہارے ساتھ ہوں گا جب تم مجھے پکارو گے میں تمہاری پکار کا جواب دوں گا۔پھر فرمایا وَلْيُؤْمِنُوا بِی اور مجھ پر ایمان لے آؤ۔اب ایمان ہی سے تو بات شروع ہوئی تھی يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قبْلِكُم اے وہ لوگو جو ایمان لے آئے ہو تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تو یہ ساری بات ختم کر کے پھر ایمان کہاں سے لانا ہے۔یہاں ایمان کے معراج کی بات ہو رہی ہے جیسے روزہ عبادت کے معراج پر خدا کو دکھاتا ہے اب یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ ایمان تو یہ ہو گا جب خدا تم سے بولے گا جب تم اس کے کامل بندے بن چکے ہو گے۔جب اسے اپنے قریب دیکھا کرو گے، جب وہ تمہاری باتوں کا جواب دے گا حقیقی ایمان تو وہ ہے ورنہ تمہیں کیا پتا کہ تم ایمان لائے بھی ہو کہ نہیں۔دور سے دیکھ رہے ہو ایک بات کا تمہیں خیال ہے کہ تم ایمان لاتے ہومگر جب