خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 102 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 102

خطبات طاہر جلد 13 اس سے کیا تعلق ہے۔آپ فرماتے ہیں: 102 خطبہ جمعہ فرموده 11 فروری 1994ء ایک دفعہ میرے دل میں خیال آیا کہ فدیہ کس لئے مقرر کیا گیا ہے 66 تو معلوم ہوا کہ توفیق کے واسطے ہے تاکہ روزہ کی توفیق اس سے حاصل ہو۔“ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذہن میں اس تحریر کے وقت یا اس بیان کے وقت یہی معنی موجود دکھائی دیتے ہیں۔ایک انسان ہے جو روزہ رکھ سکتا ہے لیکن وقتی طور پر اس طاقت سے محروم ہے۔پس وہ لوگ فدیہ دیں اور فدیہ دے کر اللہ سے مدد مانگیں کہ اے خدا ہمیں اس کی طاقت عطا فرما دے۔وو۔۔۔خدا تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو تو فیق عطا کرتی ہے اور ہر شئے خدا تعالیٰ ہی سے طلب کرنی چاہئے۔خدا تعالیٰ تو قادر مطلق ہے وہ اگر چاہے تو ایک مدقوق کو بھی روزہ کی طاقت عطا کر سکتا ہے تو فدیہ سے یہی مقصود ہے کہ وہ طاقت حاصل ہو جائے اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوتا ہے۔پس میرے نزدیک خوب ہے کہ (انسان) دعا کرے کہ الہی یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے اور میں اس سے محروم رہا جاتا ہوں اور کیا معلوم کہ آئندہ سال زندہ رہوں یا نہ یا ان فوت شدہ روزوں کو ادا کر سکوں یا نہ اور اس سے توفیق طلب کرے تو مجھے یقین ہے کہ ایسے دل کو خدا تعالی طاقت بخش دے گا۔“ (ملفوظات جلد چہارم صفحه : 563) دوسرے معنی اس کے یہ ہیں کہ وہ لوگ جن کو اس کی طاقت نہیں ہے۔جو اس کی طاقت نہیں رکھتے۔اس معنی میں ضمیر فدیہ کی طرف نہیں جائے گی اور صرف روزے کی طرف جائے گی یعنی معانی نسبتا محدود ہوں گے اور اس سے مراد یہ ہوگی کہ یہ لوگ جو روزہ کی طاقت رکھتے ہیں وہ تو بعد میں روزے رکھ ہی لیں گے۔یعنی یہ ترجمہ اختیار کرنے والوں کا رجحان اس طرف ہے کہ اس سے یہ معنی پیدا ہو جاتے ہیں کہ فدیہ کی حکمت یہ ہے کہ وہ لوگ جو روزہ کی طاقت رکھتے ہیں وہ تو بعد میں رکھ لیں گے مگر جن کو طاقت نہیں ہے وہ کیا کریں گے کچھ تو ان کے دل کی تسلی کا سامان ہو۔پس ان کو فرمایا گیا ہے کہ تم فدیہ دے کر اس حسرت کو کسی حد تک مٹا لو کہ ہم اس نیکی سے محروم ہو گئے۔مگر جو پہلے معانی