خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 97
خطبات طاہر جلد 13 97 خطبه جمعه فرمودہ 4 فروری 1994ء یہ دنیا اللہ آگے بڑھو۔ یہ دنیا تمہارے لئے مسخر کر دی گئی تسخیر کرنے والے تم نہیں ہو تسخیر کرنے والا اللہ ہے اور سب سے عظیم تسخیر محبت کی تسخیر ہوا کرتی ہے۔ آپ سب بھی تو محبت کے مارے ہوئے ہیں۔ سے عظیم خیرمحب کی ہوا کرتی ہے۔ تو محبت کے سے تسخیرمحبت ہوا سے یہاں پچھلے دنوں ایک مجلس مشاعرہ عبید اللہ علیم کے ساتھ ایک شام ہمارے ٹیلی ویژن پر پیش کی جارہی تھی۔ تو اس میں ہمارے بہت سے کارکن جو نوجوان، بچے، بچیاں سب اکٹھے ہو کر اس کو سننے کے لئے ذرا تھوڑی دیر کے لئے متوجہ ہو گئے ۔ ان کا ایک شعر تھا: کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھا یوں میں نے جیون ہار دیا یہ ہے زندگی ہماری ) تو کسی کارکن نے کہا ہاں کتنی سچی بات ہے ہم جو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں سارے، سارے دنیا کی لذتیں چھوڑ کر ، کام چھوڑ کر، اپنی پڑھائیاں چھوڑ کر یہاں آگئے ہیں تو ہے کیا۔ کچھ عشق ہے کچھ مجبوری ہے۔ عشق ہے اللہ تعالیٰ کی ذات سے اور مجبوری یہ ہے کہ جب یہ عشق آ جائے تو وہ مجبوری بن جایا کرتا ہے۔ پس آپ عشق کے دور میں داخل ہیں اور وہی نمونے دکھا ئیں جو عشاق کے نمونے ہوا کرتے ہیں ۔ کہ دشمن بھی اسی طرح کے عَشِقَ مُحَمَّدٌ رَبَّہ کہ محمد نہیں تو محمد کے غلام اپنے رب پر عاشق ہو گئے ہیں اور جب خدا کے بندے خدا پر عاشق ہو جائیں تو خدا کی قسم خدا کی محبت ہے جو کل عالم کو تسخیر کر دیا کرتی ہے۔ پس اس تفضیل کے لئے آگے بڑھو اور ذکر الہی کو بلند کرتے ہوئے آگے بڑھو۔ خدا کی محبت کے گیت گاتے ہوئے آگے بڑھو ۔ اللہ تمہارے ساتھ ہو، اللہ ہمارے ساتھ ہو۔ (آمین )