خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 997
خطبات طاہر جلد 13 997 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 دسمبر 1994ء جو انہوں نے بغض کا اظہار کرنا تھا وہ تو کرنا ہی تھا دنقل کفر کفر نہ باشد۔مطلب یہ ہے کہ ہمیں گالیاں دیتے ہوئے ساتھ ساتھ یہ کہہ رہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ اب ہم باتیں ختم کریں اور عملی اقدام کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کے عالمگیر پروپیگنڈا کے توڑ کے طور پر ایک عالمگیر اسلامی ٹیلی ویژن سٹیشن قائم کریں ، ٹیلی ویژن نظام جاری کریں، یہ کہنے کے بعد کہتے ہیں Now not Laterاب ہو یہ۔اب کے بعد نہیں Later may be too late دیر ہوگئی تو پھر بہت دیر ہو چکی ہوگی۔Already it is too Late اب تم کچھ نہیں کر سکتے۔1894ء میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو توفیق ملی کہ عرب دنیا کو مخاطب ہوں ہمارے پاس تو وہ چارہ نہیں تھا ، وہ ذرائع نہیں تھے، اس زمانے میں تقویٰ کا معیار بہت بلند تھا اور زبر دستی لٹریچر کی راہ میں کوئی روک نہیں ڈالی جاتی تھی ہر قسم کی کتاب ہر جگہ پہنچ جاتی تھی ، ہر ایک کو آزادی تھی۔لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرہ: 257 ) کا منظر دکھائی دیتا تھا۔علماء بھی شوق سے اپنی مخالف آراء کو سنتے ان میں دلچسپی لیتے اور اگر اتفاق نہیں کرتے تھے تو جوابی کارروائی کیا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام نے جو عربی زبان میں کتب شائع فرما ئیں تاریخ میں لکھا ہوا ہے کہ بعض کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تمام عرب دنیا میں مفت تقسیم کروائی ہیں لیکن آج ان کو قیمتاً بھی وہاں لینا چاہے تو اس کو اجازت نہیں ، رستے کی روکیں ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے سالوں کی مماثلت تو معلوم ہوتا ہے دکھانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔اب ان بے چاروں کی کیا طاقت ہے کہ خدا کے ارادوں کی راہ میں روک ڈالیں۔وہ رستے کی Tarif کی پابندیاں سطح زمین پر چلتی ہیں یا ہوا میں اڑیں تو وہاں پہنچ کر زمین کے رستے سے داخل ہوتی ہیں ان پر تو انہوں نے پہرے بٹھا ہوئے تھے۔اب آسمان پر کیسے پہرے بٹھاتے ، اب اللہ نے یہ پیغام آسمان سے اتارنا شروع کیا ہے اور عرب اس کثرت سے دلچسپی لے رہے ہیں کہ بعض دفعہ ان کے پیغام سن کر آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ یہ واقعہ ہو گیا، ہماری توقعات سے بہت بڑھ کر ہے۔سوالات بھی آنے شروع ہوگئے ہیں دلچسپیوں کے اظہار مختلف طریق پر ، ہمارے پروگراموں کے مطالبے کر رہے ہیں رسائل کہ ہمیں بھیجو تا کہ عربوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے تقاضے پورے کر سکیں۔بعینہ یہی درخواست لکھی ہوئی ہمارے دفتر میں موجود ہے ، فون پر بھی ان صاحب کی نصیحت آئی۔ایک بڑے رسالے کے مالک بھی ہیں اور