خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 94
خطبات طاہر جلد 13 94 خطبہ جمعہ فرمودہ 4 فروری 1994ء مگر جہاں تک یورپین ممالک کا تعلق ہے اللہ کے فضل سے یورپین ممالک میں خصوصا جرمنی میں تو تربیت کے ساتھ ساتھ تبلیغ کی مہم بھی انہوں نے ایسی شدت سے جاری کی ہے کہ یوں لگتا ہے کہ ساری جماعت جرمنی اس مہم میں ڈوب چکی ہے اپنے وجود کو اس میں کھو دیا ہے۔لیکن جب میں ساری کہتا ہوں تو میں جانتا ہوں بہت سے خلا ہوں گے شاید سینکٹروں کیا ، ہزاروں ایسے ہوں جن کو ابھی تک تبلیغ کا سلیقہ بھی نہ آتا ہو۔جنہوں نے یہ کام نہ شروع کیا ہو۔لیکن اللہ کا یہ ایک خاص سلوک ہے مومنوں سے کہ ان کا دسواں حصہ بھی اگر مستعد ہو جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ساری کی ساری جماعت مستعد ہوگئی ہے۔ایک کو دس پر غلبہ عطا ہونے کے ایک یہ بھی معنی ہیں کہ ان میں دس کے برابر طاقت پیدا ہوتی ہے تو غلبہ پاتے ہیں دس پر، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ طاقت ایک کی رہے اور دس پر غلبہ پا جائیں۔پس اس میں ایک وعدہ ہے اور ایک خوشخبری ہے۔وعدہ یہ ہے کہ ہم تم میں سے ہر ایک کو دس کی طاقت عطا کریں گے۔اور خوشخبری یہ ہے کہ پھر تم بظاہر برابر ہو گئے ان کے، پھر بھی ان پر غالب آ جاؤ گے۔یعنی یہ نہیں فرمایا کہ وہ دس ہوں گے تو تم گیارہ ہو جاؤ گے۔قرآن کریم یہ فرما رہا ہے کہ تمہارے ایک کے مقابلے پر وہ دس ہوں گے اور پھر بھی وہ غلبہ عطا کرے گا۔تو اس میں یہ نکتہ سمجھنے کے لائق ہے۔اگر خدا نے جو طاقت تمہاری بڑھائی ہے۔محض اس طاقت سے جو خدا نے عطا کی مگر پھر بھی تمہاری ذات میں ظاہر ہوئی۔اس سے تمہیں غلبہ عطا ہوتا تو کئی بے وقوفوں کو غلط نہی ہو جاتی تھی کہ ہم نے اپنی طاقت سے دشمن کو مارا ہے۔وہ کہہ سکتے تھے سب طاقتیں اللہ ہی کی طرف سے آتی ہیں مگر ہمارے جسم سے یہ معجزہ ظاہر ہوا ہے۔اللہ نے اب برابر کر کے چھوڑ دیا ہے اور پھر خوشخبری دی ہے کہ ہم پھر تمہیں غالب کریں گے اور غلبہ بھی اس شان سے عطا کرتا رہا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے ورنہ تو برابر کی چوٹ تھی۔اتنا عظیم الشان غلبہ کیسے عطا ہوا وہ فضل ہے۔جو ان وعدوں کے ساتھ لگارہتا ہے۔جتنا اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے اسے پورا کرتے وقت ہمیشہ بڑھا چڑھا کر دیتا ہے۔اس پہلو سے جب میں کہتا ہوں کہ یوں لگتا تھا کہ ساری جماعت جرمنی نے اپنے آپ کو اس میدان میں جھونک دیا ہے تو اتنا تو مجھے اندازہ ہے کہ دسویں حصے سے کم نہیں ہیں وہ لوگ ، جو اس وقت تبلیغ میں بجھتے ہوئے ہیں اور جیسا کہ میں نے بتایا کہ اللہ کا وعدہ ہے۔جب دسواں حصہ بھی اللہ تعالیٰ کسی قوم کو زندہ کر دے تو بقیہ نوع کی کمزوریاں بھی ان کی زندگی کے تابع چھپ جاتی ہیں اور ان پر پردہ پڑ جاتا ہے۔