خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 91
خطبات طاہر جلد 13 91 خطبہ جمعہ فرموده 4 فروری 1994ء کے لئے اس کا مقابلہ ممکن نہیں رہے گا۔پس خدا جو فرماتا ہے کہ جنگ کے دنوں میں ثبات قدم دکھاؤ اور ذکر الہی کرو۔یہ مضمون آج بھی ہر جہاد میں جاری ہے اور وہ نصیحت آپ کو ہمیشہ، لا ز ما حرز جان بنانی ہوگی۔اپنی جان اور سینے سے چمٹا کے رکھنی ہوگی۔فاثبتوا کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم خدا کی طرف بلا ؤ اور پھر کچھ دیر کے بعد ٹھنڈے پڑ جاؤ اور پھر خالی ذکر کرو تو یہی کچی بات نہیں ہے۔پہلے ثبات قدم رکھا ہے۔پھر ذکر فرمایا۔تو اپنی نیک کوشش میں یہ عہد کر لو کہ میں اسے ذکر ضرور جاری رکھوں گا۔اور اسی مضمون کو آخر پر صبر کے الفاظ سے مزید کھول کر پیش فرمایا ہے۔پس جنگ میں ثبات قدم ہو، تبلیغ میں انسان وفا دکھائے اور ہمت کے ساتھ ہمیشہ اس نیک کام کو جاری رکھے یا تکلیفوں پر صبر کرے، یہ تینوں حقیقت میں ایک ہی چیز کے مختلف نام ہیں۔تو فرمایا تم جو کام کرو گے اس کو چھوڑنا نہیں پھر تو خدا کی راہ میں جہاد کرنے نکل کھڑے ہو۔تو پھر لازما اس کو ہمیشہ، زندگی بھر جاری رکھنا ہو گا۔ایک دو مہینے ، ایک دو سال کی باتیں نہیں ہیں۔اور پھر جب ذکر الہی کرو گے تو پھر تمہیں غلبہ عطا ہو گا۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا یہ صرف ذکر نہیں کثرت سے ذکر کرو۔پس یہ جو کثرت سے ذکر الہی کا میں مضمون بیان کر رہا ہوں۔اس کا آخری تعلق دعوت الی اللہ سے ہے۔آغاز میں یہ آپ کی ذات کو سنوارنے کے لئے ذکر شروع ہوا تھا۔جب آپ بن سنوار کر تیار ہو جا ئیں تو آپ میں انہی کشش پیدا ہو جاتی ہے۔پھر آپ دعوت الی اللہ کے لئے نکلیں، پھر وہ ذکر کو اور تیز کردیں۔تو دنیا کی فتح تو چند قدم کی باتیں رہ جائیں گی۔یہ جو آپ اگلی صدیوں میں باتیں دیکھ رہے ہیں اور جو خوا میں ہیں۔ان خوابوں کی تعبیر اس دنیا میں دیکھیں گے اور آج دیکھ بھی رہے ہیں۔کثرت سے مجھے ایسے خط لکھتے ہیں کہ ہم نے پاکستان میں فلاں وقت یہ خواب دیکھی تھی فلاں وقت یہ خواب دیکھی تھی۔ہم بعض دفعہ یہ سوچ کے سویا کرتے تھے کہ کب ہمیں اللہ تعالیٰ اپنا ٹیلی ویژن عطا کرے گا۔بعض ماؤں کا قصہ دیکھتے ہیں کہ بڑی حسرت سے انہوں نے کہا کاش یہ لوگ جو ہماری مخالفت میں ٹیلی ویژن کو گندہ کرتے ہیں۔خدا ہمیں بھی موقع دے کہ ہم ٹیلی ویژن پر ذکر الہی بلند کرنے والے ہوں دنیا کو پتا لگے کہ ہماری حقیقت کیا ہے۔کئی ایسے خواہش رکھنے والے مر گئے لیکن بہت سے آج بھی زندہ ہیں اور اپنی آنکھوں کے سامنے انہوں نے وہ بات پوری ہوتی دیکھی جس کا