خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 92
خطبات طاہر جلد 13 92 92 خطبہ جمعہ فرمودہ 4 فروری 1994ء پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔پھر خوا ہیں بہت سی لوگوں نے لکھ کے بھیجی بعض پرانی خوابوں کے حوالے دیئے۔جو ہماری فائل میں موجود ہیں۔اس وقت اس کی تعبیر میں میں نے یہی لکھا کہ اللہ مبارک کرے، کوئی خوشخبری معلوم ہوتی ہے اور خود مجھے بھی یہ سمجھ نہیں آئی کہ یہ لفظا لفظاً پوری ہوگی۔اور وہ جو نظارے ان لوگوں نے دیکھے تھے اللہ نے ویسے ہی دکھا دیئے۔تو آج کل خدا اتنا مہربان ہے جماعت احمدیہ پر اور بنی نوع انسان پر اس حوالے سے کہ جیسے زمین پر اتر رہا ہو، اس وقت اپنی کیفیت کو نہ بدلیں ورنہ تو بڑی محرومی ہوگی۔وہ وقت جو خاص خدا کی خاطر جہاد کے وقت ہوا کرتے ہیں۔ان دنوں میں واقعی خداز مین پر آ جاتا ہے جب خدا اپنے تمام جلووں کے ساتھ انسان کے قریب تر آ جاتا ہے۔اس تھوڑے سے ذکر سے بھی آپ کو بہت بڑی برکتیں عطا ہو سکتی ہیں اور تھوڑا سا ذ کر خود کثیر ہوتا چلا جائے گا کیونکہ لڑائی میں کثیر کا مطلب یہ ہے کہ اس کا فطری تعلق ہے۔اپنا پیارا خطروں کا وقت زیادہ یاد آتا ہے۔وہ جو پہلے تھوڑ اذکر کیا کرتے تھے وہ بھی جب موت کے خطرات کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہیں تو وہ جو محبوب ہے وہ زیادہ یاد آنے لگ جاتا ہے۔پس ایک دنیا کا شاعر اگر سچا ہے اور یہ کہتا ہے۔فوالله ما ادري واني لصادق اداء ارانی من حبابک ام سحر تو میں خدا کی قسم سچ بول رہا ہوں جھوٹ نہیں کہہ رہا۔تیری محبت میں مجھے کیا ہو گیا ہے۔کوئی تکلیف پہنچی ہے یا پاگل ہو گیا ہوں۔مجھے جادو ہو گیا اس حسن کا یا کسی بیماری نے آلیا ہے۔یہ وہ کیفیت ہے جو بچے عشق سے پیدا ہوتی ہے اور اس سے پھر ذکر پھوٹتا ہے اور جتنا گہرا مصیبت کا وقت ہوا تنا ہی ذکر زیادہ گہرا اور کثیر ہوتا چلا جاتا ہے۔پس آج کثرت کے ساتھ ذکر کے دن آگئے ہیں ہم رمضان کے دروازے پر کھڑے ہیں۔اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ اس رمضان کو خصوصیت سے دعوت الی اللہ کی خاطر کثرتِ ذکر میں تبدیل فرما دیں۔روزے تو ویسے ہی ذکر کے لئے خاص ہیں۔لیکن دعوت الی اللہ کے مضمون کو ذہن میں اور قلب میں مستحضر کر کے اس کو یا درکھتے ہوئے۔اس کا تعلق اس ذکر سے باندھتے ہوئے۔جس کا قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ جہاد کے وقت غیر معمولی طور پر ذکر کیا کرو۔ذکر