خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 850
خطبات طاہر جلد 13 850 خطبہ جمعہ فرمودہ 11 نومبر 1994ء حالات پیدا ہوتے رہے ہیں اور ہوتے ہیں، ہوتے رہیں گے۔لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے سلسلے کی ترقی کے قدم نہیں رکے خزاں میں بھی اس پاک پودے نے پھل دیا ہے اور بہار میں بھی اس پاک پودے نے پھل دیا ہے اور وہ مضمون ایک اور رنگ میں یہاں صادق آتا ہے کہ اگر موسلا دھار بارش نہ ہی تو کل ہی یعنی شبنم بھی ان پودوں کے لئے بہت کافی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس مضمون کو اپنے ایک شعر میں یوں بیان فرمایا بہار آئی ہے اس وقت خزاں میں لگے ہیں پھول میرے بوستاں میں (در مشین:50) کہ لوگوں کے ہاں تو خزاں آتی ہے تو پت جھڑ ہو جاتا ہے مگر یہ کیسا خدا، کیسا فضل کرنے والا خدا ہے کہ میرے بوستاں پر خزاں میں بھی بہار آ گئی ہے اور لگے ہیں پھول میرے بوستاں میں اللہ کی رحمت کی وجہ سے۔تو جماعت احمدیہ کو یہ مضمون سمجھنا چاہئے کیوں بہار آتی ہے وقت خزاں میں۔اس لئے کہ خدا کے بندے اپنے وقت خزاں میں بھی بہار کی طرح کو نہیں نکالتے ہیں، خرچ سے رکتے نہیں ہیں، سخت تنگی کی حالت میں بھی جب ان پر خزاں کا دور گزرتا ہے ان کے دل سے خدا کی محبت کی کونپلیں پھوٹتی ہیں اور وہ خدا کی راہ میں وہ پھول نچھاور کرتے ہیں اخلاص کے، تھوڑے تھوڑے قربانیوں کے پھول دکھائی دیتے ہیں مگر اللہ کی نظر میں ان کی بہت عظمت ہے۔پس وہ لوگ جو اپنا حال خدا کی خاطر، خدا کی رضا کی خاطر دنیا سے الگ بنا لیتے ہیں یاد رکھو خدا ہمیشہ ان سے دنیا سے الگ سلوک کرتا ہے۔ان کی خزائیں بھی بہاروں میں تبدیل ہو جایا کرتی ہیں۔پس جماعت احمدیہ کو اپنے ہر چندے کے وقت اس بنیادی اصول کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے اور عالمگیر جماعت میں خدا کے فضل سے یہ بات نمایاں طور پر دکھائی دے رہی ہے۔مگر جو نومبائعین ہیں مجھے اس وقت ان کی فکر ہے۔میرے نزدیک نو مبائعین کو فوری طور پر چندوں میں داخل کرنا نہایت ضروری ہے اور نو مبائعین کو داخل کرنے میں یہ نہ دیکھا جائے کہ تحریک جدید کا کم سے کم چندے کا معیار کیا مقرر ہوا ہوا ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرما یا فَلْيُنْفِقُ مِمَّا الله الله اور دوسری جگہ لِيُنْفِقْ ذُوسَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ دونوں ہیں کہ ہر صاحب حیثیت اپنی حیثیت