خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 67
خطبات طاہر جلد 13 67 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 جنوری 1994ء آتے ہیں تو گزر بھی تو جاتے ہیں پھر زندگی معمول پر آ جاتی ہے مگر جو ڈوب گئے وہ تو ڈوب گئے۔سیلاب جو علاقے ویران کر گیا وہ فصلیں تو پھر دوبارہ نہیں آسکتیں اس لئے دم بھر کے غضب میں بہت کچھ ہو جاتا ہے انسان کی ساری زندگی رائیگاں چلی جاتی ہے۔رات کو شاید رونا پڑے اور صبح کو خوشی کی نوبت آتی ہے۔“ رات کو شاید رونا پڑے کیونکہ خدا کے حضور جوراتوں کو روتے ہیں انہی کو صبح خوشی کی نوبت آتی ہے۔” میں نے اپنی اقبال مندی کے وقت یہ کہا تھا کہ مجھے بھی جنبش نہ ہوگی۔اے خداوند تو نے اپنے کرم سے میرے پہاڑ کو قائم رکھا تھا۔“ اس میں ایک پوری داستان ہے اللہ تعالیٰ سے محبت کی باتیں کرنے اور خدا سے وفا کے وعدے کرنے کی۔کہتے ہیں میں نے اپنے اقبال مندی کے وقت یعنی جب تو نے مجھے سرفراز فرمایا اور مجھے اپنا بنالیا یہ عرض کیا تھا کہ مجھے کبھی جنبش نہ ہوگی میں اب کبھی اس راستے سے ٹلوں گا نہیں لیکن مجھ میں کہاں طاقت تھی کہ میں اس عہد پر قائم رہتا۔اے خداوند تو نے اپنے کرم سے میرے اس پہاڑ کو قائم رکھا۔محض تیرا کرم اور فضل تھا کہ میرے پہاڑ کو میرے عزم کے پہاڑ کو ثبات عطا ہوا ہے اور واقعہ مجھے کبھی جنبش نہیں ہوئی۔” جب تو نے اپنا چہرہ چھپایا تو میں گھبرا اٹھا۔اے خداوند میں نے تجھ سے فریاد کی میں نے خداوند سے منت کی۔جب میں گور میں جاؤں تو میری موت سے کیا فائدہ۔کیا خاک تیری ستائش کرے گی کیا وہ تیری سچائی کو بیان کرے گی۔“ اس سے مرادظاہر قبر نہیں ہے۔ظاہری قبر میں تو ہر انسان جانتا ہے کہ میں نے بہر حال جانا ہے اور خدا کی ستائش پھر بھی باقی رہے گی۔یہ وہی گور ہے جس کے متعلق حضرت داؤ پہلے کہہ چکے ہیں کہ تو نے مجھے گور سے نکالا یعنی خدا تعالیٰ سے دوری کے اندھیرے۔خدا تعالیٰ کے وصل سے پہلے کی کیفیت۔تو عرض کرتے ہیں کہ اے خدا اگر میں گور میں چلا گیا تو میری مٹی تو بے کار ہو جائے گی وہ مٹی جو روحانی لحاظ سے مر جائے وہ تو تیری ستائش نہیں کر سکتی۔سن لے اے خداوند اور مجھ پر رحم کر۔اے خداوند تو میرا مددگار ہو تو