خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 568
خطبات طاہر جلد 13 568 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 / جولائی 1994ء اعتبار اٹھا دیتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کی ذات سے اعتبار اٹھاتے ہیں کیونکہ جیسے قرآن میں کوئی تضاد نہیں محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بھی کوئی تضاد نہیں۔یہ ناممکن ہے کہ قرآن کریم کے کھلے کھلے اعلان کے خلاف محمد رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث ، ادنی سا بھی مضمون پیش کرے اور اس کو حدیث کہنا ہی گستاخی ہے یا کچھ اس کی باتیں ایسی ہیں جو تمہاری فہم سے بالا ہیں مگر قرآن کریم کے کھلے کھلے اعلان کے بعد کسی حدیث کی طرف اس اعلان سے متضاد مضمون بیان کرنا قرآن کی بھی گستاخی ہے حدیث کی بھی گستاخی ہے، محمد رسول اللہ کی گستاخی ہے۔اب اس واقعہ کے بعد کیا ہوا وہ عجیب داستان ہے احادیث میں اس کا ذکر محفوظ ہے کہ جب ی شخص اپنی طبعی موت مرا، محمد رسول اللہ ﷺ نے کسی کو اس کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی لہذا طبعی موت مرا تو آنحضور علے اس کے جنازے کے لئے روانہ ہوئے۔صحابہ بہت بے چین تھے مگر حضرت عمرؓ کے سوا کسی نے جرات نہیں کی حضرت عمرؓ آگے راستہ روک کے کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ یہ منافق ہے کیا آپ اس کا جنازہ پڑھیں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ پر وہ آیات نازل ہوئی ہیں جن میں یہ ذکر ہے کہ اگر تو ستر دفعہ بھی ان کے لئے استغفار کرے گا تو میں نہیں بخشوں گا اللہ یہ اعلان کر رہا ہے اور حضرت عمرہ کی نا کبھی دیکھیں ، اپنی ذات میں تو بہت عقل والے تھے رسول اللہ اللہ کے مقابل پر کسی صحابی کی کوئی فہم کام نہیں کر سکتی، یہ نہیں سوچا کہ جس پر آیت نازل ہوئی ہے وہ اس کا مضمون اس سے بہت زیادہ بہتر سمجھتا ہے جو اس آیت کا حوالہ دے رہا ہے تو حضرت رسول اللہ ﷺ نے جب یہ بات سنی تو فرمایا عمر میرا رستہ چھوڑ دو خدا یہ کہتا ہے نا کہ اگر تو ستر دفعہ بھی استغفار کرے گا تو میں نہیں بخشوں گا، میں ستر سے زیادہ دفعہ استغفار کرلوں گا۔اللهم صلی علی محمد و علی آل محمد و بارک وسلم۔یہ محمد رسول اللہ ہیں۔یہ قرآن ہے، ہر ایسے الزام سے یہ پاک ہیں اور بلند تر ہیں جو آج کا صلى الله مولوی اسلام اور محمد رسول اللہ ﷺ اور قرآن پر لگا رہا ہے۔اس عظیم کردار کے خلاف جس کے حق میں تمام قرآن گواہ کھڑا ہے اور تمام تاریخ انبیاء گواہ کھڑی ہے، کسی بھی مصنوعی ، وضعی کسی حدیث کا، کسی عالم کے فتوے کا حوالہ لے کر جو بات کرتا ہے وہ گستاخ رسول ہے، وہ گستاخ کتاب اللہ ہے۔وہ اللہ کا گستاخ ہے۔تمام انبیاء کی اہانت کرنے والا ہے۔اس کھلی کھلی دن کی طرح روشن گواہی کے خلاف