خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 42
خطبات طاہر جلد 13 42 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 /جنوری 1994ء ہو جاتے ہیں اور اس کے عشق میں ایسے ڈوبے جاتے ہیں کہ گویا کسی اور لذت کی کوئی پرواہ نہیں رہی۔تو سوال یہ ہے کہ ایک عاجز انسان جس کی لذتیں مادی ، جس کے تجربے دنیاوی لذتوں کے حصول میں ہی صرف ہوتے رہے ہوں جس کے تجربے دنیاوی لذتوں کے حصول سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔وہ خدا سے کیسے تعلق باندھے اور ان مادی تعلقات کو خدا کی محبت میں کیسے تبدیل کرے اور کیسے اس سے لذت حاصل کرے۔ایک جانور کو جتنی استطاعت دی گئی ہے وہ اپنی استعداد سے بڑھ کر ان لذتوں کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔پس انسان کے لئے پھر یہ کیسے ممکن ہوگا کہ وہ اپنی تمام لذتیں خدا میں ڈھونڈے، مثلاً اس کو کھانے میں بھی لذت آتی ہے، کھانے پینے میں بھی لذت آتی ہے لمس سے لذت آتی ہے، اور دیگر اس قسم کی دوسری لذات جن کو انسانی خواہشات یا جذبات سے کوئی رشتہ ہے ، وہ سب ایسی معلوم ہوتی ہیں جن کا خدا سے کوئی تعلق نہیں۔اس ضمن میں میں نے ایک بات آپ کے سامنے رکھی تھی جس سے متعلق بعض دوستوں کو ضرورت محسوس ہوئی ہے کہ مزید وضاحت کی جائے۔وہ یہ تھی کہ ہر لذت کا آغاز ، اس کا مبداء، اس کا منبع ایک ہی ہے۔یعنی آنا جواللہ کا ”انا“ ہے۔اللہ کا اپنے نفس کے وجود کا احساس وہی ہے جس سے ہر دوسری چیز پھوٹی ہے۔پس الم میں، جو الف ہے یہ ہر چیز کا آغاز ہے۔ایک ہے اور اس سے ہر چیز پھوٹتی ہے اور وہ اپنے وجود کا احساس ہے۔اس احساس سے اللہ تعالیٰ نے زندگی کو یہ احساس و دیعت فرما دیا منعکس کر دیا زندگی پر ، اور وہیں سے پھر زندگی کا سفر شروع ہوتا ہے۔زندگی کی آپ جو بھی تعریف کر لیں اس کا آخری نقطہ ”انا“ سے شروع ہوتا ہے۔یہاں آنا‘ سے وہ انانیت مراد نہیں۔جس کا شعر و شاعری میں بھی ذکر ملتا ہے۔جس کے متعلق منفی معنوں میں ہم سوچتے ہیں کہ اس سے مراد اپنے وجود کا دوسروں پر سبقت کا احساس، بڑائی کا احساس برتری کا احساس یا دوسرے لفظوں میں تکبر کا احساس ہے۔ہرگز ان معنوں میں یہاں ان کی بات نہیں ہورہی۔”انا“ سے مراد حساس وجود ہے جو ہر دوسری چیز سے زیادہ پیارا ہے۔پس اس احساس وجود میں انسان کی پیدائش سے بہت پہلے زندگی کے آغاز ہی میں، زندگی کے پہلے ذرے کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس احساس میں ظلی طور پر شامل فرمالیا اور وہیں سے پھر زندگی کا سفر شروع ہوا۔ہر ذرہ زندگی کا ایک ”انا“ رکھتا ہے اور یہ آنا