خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 314 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 314

خطبات طاہر جلد 13 314 خطبه جمعه فرموده 29 اپریل 1994ء ہوتے ہیں تو اگر چہ جانور بعض پہلوؤں سے بعض دوسرے جانوروں پر طاقتور ہونے کے لحاظ سے فوقیت رکھتا ہے مگر شعوری طور پر جانور طاقت کے اجتماع نہیں کیا کرتے۔اس غرض سے وہ طاقت حاصل نہیں کیا کرتے کہ دوسروں پر اپنی برتری دکھائیں۔جیسی طاقت جس جانور کو خدا کی طرف سے نصیب ہو گئی اس کے طبعی استعمال سے، جتنا سا رعب پڑنا چاہئے اتنا خود بخود پڑتا ہے اور اس طرح جانوروں کی دنیا میں ایک باہمی مقابلے کی ایک طبعی جاری وساری صورت ہے جو ہمیں دکھائی دے رہی ہے۔شیر کا ایک مقام ہے، بکری کا ایک مقام ہے، بکری سے نیچے اس کے لیلوں کا بھی مقام ہے، ایک کتوں کا ایک اس کے پلوں کا مقام ہے۔یہ سارا نظام کا ئنات طاقت کے لحاظ سے بھی مختلف گروہوں میں بٹا ہوا ہے۔لیکن انسان کی طرح جانو ر اجتماعی کوشش سے اپنے لئے زائد طاقت حاصل کرنے کا شعور نہیں رکھتے۔یہ پہلی دفعہ انسان میں واقع ہوا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اکرام کا تصور جانوروں میں نہیں ہے اور انسان میں ہے اور اکرام کے تصور کا طاقت سے بہت گہرا تعلق ہے۔ایک اکرام طاقت سے ملتا ہے۔اسی لئے عربی زبان جو الہامی زبان ہے اس میں طاقت اور عزت کے لئے ایک مشترک لفظ رکھا گیا ہے جسے عزیز کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ عزیز ہے۔عزیز کا ایک معنی ہے عزت والا ، بزرگی والا ، صاحب شرف اور ایک ہے غالب۔تو قوت کا جو عزت کے ساتھ ایک طبعی اٹوٹ رشتہ ہے وہ انسانی سطح پر ابھرنے کے بعد انسان کے شعور میں ابھرتا ہے۔اس سے پہلے وہ رشتہ تو ہے مگر جانوروں کے شعور میں ابھرتا نہیں ہے۔ان کو علم نہیں کہ طاقت سے عزت نصیب ہوا کرتی ہے پس انسان طاقت ڈھونڈتا ہے اور طاقت سے عزت پاتا ہے اور یہاں سے اس کی تربیت کا وہ اگلا سفر شروع ہو جاتا ہے جواسے خدا کی طرف لے جاتا ہے۔خدا کا جہاں تک تعلق ہے، اس پر آپ کی طاقت کیا اثر دکھا سکتی ہے۔کوئی بھی حیثیت نہیں۔کمزور سے کمزور اور طاقتور سے طاقتور خدا کی نظر کے سامنے کوئی بھی فرق والی حیثیت نہیں رکھتے۔ایک مشہور سائنسدان نے غالباً آئن سٹائن کے کسی مضمون میں میں نے یہ پڑھا تھا اس نے بھی یہ نکتہ پیش کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے مقابل پر جو مخلوق ہے اس کا فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ مثال کے طور پر جیسے سورج کا زمین سے تعلق ہے اور آپ اونچائی پہ کھڑے ہو جائیں یا نیچے اتر جائیں جہاں تک سورج کے فاصلے کا تعلق ہے وہ ایک ہی جیسا دکھائی دے گا۔چاند نسبتا قریب ہے اس لئے چاند کا