خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 993 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 993

خطبات طاہر جلد ۱۲ 993 خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۹۳ء نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ ہر نماز میں یہ دعائیہ کلمات کہنا کبھی نہ چھوڑنا۔کہ اے میرے اللہ میں تیری مدد چاہتا ہوں کہ تو مجھے اپنا ذ کر عطا فرما۔کامیابی اور عمدگی سے ذکر کرنے میں میری مددفرمادے اور اپنے شکر کی توفیق بخش اور بہترین رنگ میں اپنی عبادت کی توفیق بخش۔یہ محبت کا بہترین تحفہ ہے جو آنحضرت ﷺ نے حضرت معادؓ کو عطا فرمایا۔ایک عاشق اور معشوق کے درمیان کھل کر پیار کا اظہار ہوتا ہے۔وہی وقت ہوتا ہے جب انسان اپنی طرف سے نذرانے پیش کرتا ہے۔اپنی محبت کے اظہار کے ثبوت کے طور پر کچھ ہدیہ دیتا ہے کہ یہ قبول فرمائیں۔محمد نے خود ہاتھ پکڑ کر معاذ کو فرمایا کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں اور یہ دعا تحفہ دی کہ اس سے بڑا تحفہ اور کوئی نہیں دیا جا سکتا کہ کسی کو یہ دعا سکھائی جائے کہ اے خدا مجھے اپنے ذکر کی توفیق عطا فرما۔میری مدد کر کہ تیرا ذکر کروں اور ذکر بھی ایسا ہو کہ شکر واجب ہو جائے اور شکر کا حق ادا نہ ہورہا ہو۔اگر ذکر کا حق انسان اپنی توفیق کے مطابق ادا کرے تو اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اتنا پیار کا جلوہ دکھاتا ہے کہ فوراً انسان شکر کے مضمون میں داخل ہو جاتا ہے۔آگے اس مضمون کی حدیثیں آئیں گی جن سے پتا چلتا ہے کہ انسان بہت تھوڑا کرتا ہے اور اللہ اس سے بہت زیادہ کرتا ہے پس اگر ذکر کی سچی توفیق ملے تو اللہ یہ وعدہ ضرور پورا فرماتا ہے کہ تم میرا ذکر کرو گے تو میں تمہارا ذ کر کروں گا اور بہتر ذکر کروں گا اور جب خدا ذ کر کرے گا تو ذکر سے ہٹ کر مضمون شکر میں داخل ہو جاتا ہے کہ میں شکر کا حق کیسے ادا کروں گا۔تو فرمایا کہ یہ بھی دعا کیا کرو کہ ایسی عبادت کی توفیق بخش کہ جو بہت ہی خوبصورت ہو۔ایسی حسین کہ تیرے پیار کی نظریں اس پر پڑنے لگیں۔پھر آنحضرت ﷺ کے متعلق حضرت انس بن مالک کی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا۔صلى الله عن انس بن مالک عن رسول الله عله قال ما من قوم اجتمعوا يذكرون الله لا يريدون بذلك الا وجهه الا ناداهم مناد من السماء أن قوموا مغفورا لكم قد بدلت سيئاتكم حسنات (مسند احمد حدیث نمبر : ۱۲۰۰۰) آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کچھ لوگ یا کوئی قوم خدا کے ذکر کے لئے