خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 992 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 992

خطبات طاہر جلد ۱۲ 992 خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۹۳ء صد الله ان کے گھر سویا کرتا تھا۔رات کو اٹھ کر آپ کے وضو کا پانی لاتا اور دوسرے کام کاج کرتا۔ایک دن آپ نے فرمایا کہ مجھ سے کچھ مانگنا ہے تو مانگ لو۔یہ ایک خاص موج آیا کرتی ہے۔وہ لوگ جو بڑے بڑے مراتب پر فائز ہوتے ہیں بعض دنیاوی بادشاہ ہوں یا امیر کبیر لوگ ہوں بعض دفعہ موج میں آکر اپنے خدام سے کہتے ہیں کہ آج وقت ہے مانگ لو جو مانگنا ہے۔محمد رسول اللہ سے بڑھ کر کوئی انسان دنیا میں پیدا نہیں ہوا نہ ہو سکتا ہے۔عجیب موج تھی جو آپ کے دل میں اٹھی اور عجیب شان تھی اس غلام کی مسجد کے تھڑوں پر بسنے والے ایک خالی ہاتھ انسان کی۔اس کو مخاطب کر کے صلى الله آنحضور نے فرمایا کہ اے میرے محبت کرنے والے بتا کیا مانگتا ہے، آج مجھ سے مانگ لے۔اس نے عرض کی کہ میں صرف یہ مانگتا ہوں کہ جنت میں بھی مجھے آپ کا ساتھ میسر ہو۔حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس کے علاوہ بھی کچھ چاہئے۔اس نے کہا کہ بس یہی کافی ہے، اس کے علاوہ مجھے کچھ نہیں چاہئے۔اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں دعا کروں گا لیکن کثرت سجود وصلوۃ سے تم بھی اس بارے میں میری مدد کرو۔عجیب شان کے نبی تھے جس کی کوئی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔پہلے فرمایا کہ مانگ کیا مانگتا ہے۔پھر جب اس نے مانگا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں تو پھر یہ نہیں فرمایا کہ ہاں تجھے مل گیا۔بلکہ یہ فرمایا کہ تم بھی کثرت سجود و صلوۃ کے ذریعہ میری مدد کرو۔آپ کا پیغام شاید آپ نہیں سمجھے۔مراد یہ ہے کہ تم نے بہت زیادہ مانگ لیا ہے۔جنت میں محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہونا بہت ہی بڑی چیز ہے اور میں نے کہا تھا کہ میں تمہیں دوں گا لیکن مجھ میں جتنی طاقت ہے دینے کی ، وہی دے سکتا ہوں۔اللہ نے ہی دینا ہے تو تم میری مدد کرو۔میں تمہارے لئے دعا کروں گا تم بھی اپنے لئے دعا کرو کہ اے خدا مجھے محمد رسول اللہ اللہ کا ساتھ اٹھا۔اس میں آنحضور ﷺ کے ساتھ ہونے کی تمنا بہت بڑی تمنا ہے۔محمد رسول اللہ کی دعائیں ساتھ ہوں تب بھی اپنی کوشش کی ضرورت رہتی ہے۔حضرت معادؓ کی روایت ہے۔عن معاذبن جبل قال أخذ بيدى رسول الله الله فقال انی لاحبک یا معاذ فقلت صلى الله وأنا احبك يا رسول الله فقال رسول الله علم فلاندع أن تقول في كل صلاة رب أعنى على ذکرک و شکرک و حسن عبادتک (سنن نسائی، کتاب السهو،حدیث نمبر : ۱۲۸۶)۔الله کہ آنحضرت ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا اے معاذ ! میں تم سے محبت کرتا ہوں۔میں