خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 983
خطبات طاہر جلد ۱۲ 983 خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۹۳ء ہے جو بیدار ہوتا ہے۔یہ بصیرت ہے جسے بینائی عطا ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں خواہ آپ کسی طرف دیکھیں و ہیں خدا تعالیٰ کی عظمت کے اس کی تسبیح کے اس کی تحمید کے نشان ابھرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں یعنی آپ کی ذات کو ان کو دیکھنے کا شعورمل رہا ہوتا ہے اور اس وجہ سے یوں لگتا ہے کہ گویا وہ نشان ابھر کر آپ کے سامنے آرہے ہوں اور پھر وہ روشن تر ہوتے چلے جاتے ہیں حالانکہ وہ پہلے سے ہی روشن ہیں۔وجہ یہ ہے کہ آپ کے اندر تاریکی دور ہو رہی ہے۔آپ اپنے اندر ایک نئی روشنی پاتے ہیں۔اسلئے وہ روشن نشانات آپ کو اسی نسبت سے روشن دکھائی دینے لگتے ہیں پس اس ذکر میں سب سے زیادہ اہم ذکر حضرت محمد مصطفے ﷺ کا ذکر ہے۔آپ سے زیادہ کوئی اللہ کی محبت میں گرفتار نہیں ہوا۔وہ ایک ایسا پاکیزہ وجود تھا جو کلیۂ خدا کی محبت میں غرق ہو گیا کچھ بھی اپنا باقی نہ چھوڑا۔آپ کی زندگی کے ہر لمحے پر خدا کی یاد محیط تھی پس اگر ہمیں خود علم نہ ہو کہ ہم کیسے ذکر کریں تو وہ مذکر ہمارے سامنے ہے۔وہ نصیحت کرنے والا اپنی ذات میں ایک زندہ ذکر ہے۔جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے تم میں ذکر اً رسولاً بھیجا ہے۔ایسا رسول گمبھیجا ہے جو مجسم ذکر ہے پس اس لحاظ سے آنحضرت مہ کی سیرت کا مطالعہ ذکر الہی کا بھی مطالعہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ ذکر ہے۔یہ رسول مجسم ذکر ہے۔پس خدا کے ذکر کا مطالعہ سب سے بہتر حضرت اقدس محمد ہی کی ذات میں ہو سکتا ہے۔احادیث میں سے چند جو میں نے اس موقع کے لئے منتخب کی ہیں، آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب بندہ ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اسکے قریب ہو جاتا ہوں۔جب وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھ اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور جب وہ میری طرف چل کے آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑتے ہوئے جاتا ہوں۔(مسلم کتاب الذکر حدیث نمبر : ۴۸۵۰) یہ وہ مضمون ہے جو ہر خدا کے قریب ہونے والا بندہ ہمیشہ اپنی ذات میں مشاہدہ کرتا ہے۔یہ ایک ایسی گواہی ہے جو ساری کائنات میں پھیلی پڑی ہے یعنی ہر انسان جو خدا تعالیٰ سے پیار کی بات کرتا ہے، اس سے تعلق بڑھاتا ہے اسے کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔خدا کا یہ تعلق ہر بندے سے برابر ہوتا ہے اور انسان محسوس کرتا ہے کہ خدا کی طرف تھوڑا سا قدم آگے بڑھایا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس سے بہت زیادہ میری طرف توجہ فرمائی اور احسان فرماتے ہوئے میرے قریب آیا۔لیکن آنحضرت ﷺ سے