خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 968 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 968

خطبات طاہر جلد ۱۲ 968 خطبہ جمعہ ۱۷؍ دسمبر ۱۹۹۳ء رہتا ہے کہ اللہ سب کچھ ان کے ساتھ شامل فرما دیتا ہے ان کا ایک قطرہ خدا کے سمندر میں اس طرح مدغم ہوتا ہے کہ ہر قطرے میں ان کا حصہ پایا جاتا ہے اور ہر قطرہ ان کے ایک قطرے میں اپنے جلوے دکھا رہا ہوتا ہے۔اس لحاظ سے خدا کے ساتھ ہم آہنگ ہونا شرک کا مضمون نہیں رکھتا بلکہ محویت کا مضمون رکھتا ہے۔لا الہ کا مضمون ہے اس کے سوا اور کوئی مضمون نہیں شرک یہ ہے کہ خدا الگ رہے اور بندہ الگ رہے۔خدا کی طاقت کا الگ ذکر کریں اور بندے کی طاقت کا الگ ذکر کریں۔مگر اگر بندے کی طاقت خدا میں مدغم ہو چکی ہو اور خدا ہی کی طاقت بندے کی طاقت کے ساتھ جلوے دکھائے تو اسے شرک نہیں کہتے اس کا مطلب ہے کہ لَا إِلهَ إِلَّا اللہ کہ دراصل خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔اللہ ہی ہے جو جلوہ گر ہے اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔آنحضرت ﷺ نے مختلف طریق پر صحابہ کو سمجھایا کہ کس طرح ذکر کیا کرتے ہیں اور ایسا پیارا انداز ہے کہ اس کو سن کر ممکن ہی نہیں کہ انسان ذکر الہی کی طرف مائل نہ ہوذ کر الہی کا عاشق نہ ہو جائے۔اب میں ترجمہ پڑھ دیتا ہوں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے کچھ بزرگ فرشتے گھومتے رہتے ہیں اور انہیں ذکر کی مجلس کی تلاش رہتی ہے۔جب وہ کوئی ایسی مجلس پاتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہورہا ہو تو وہاں بیٹھ جاتے ہیں اور پروں سے اس کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ان کی ساری فضا سایہ برکت سے مامور ہو جاتی ہے۔(مسلم کتاب الذکر حدیث نمبر: ۴۷۵۴) پس وہ آیت کریمہ جس کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی تھی۔دراصل اسی کا نقشہ کھینچا جا رہا ہے۔اَلَمْ تَرَاَنَّ اللهَ يُسِحُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَالطَّيْرُ صفت یہاں فرشتوں کی جو تصویر آنحضور ﷺ نے کھینچی ہے۔وہ پرندوں کی طرح ہے جو اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں اور ایک دوسری آیت میں انہی تسبیح کرنے والے فرشتوں کا یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ وہ جو کو بھر دیتے ہیں۔وَتَرَى الْمَلَيْكَةُ حَافِّيْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ ( الزمر :۷۶) تو دراصل پرندوں کی اصطلاح میں فرشتوں کی باتیں بھی کی جاتی ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ خود پرندے بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔جس زبا ن میں ، جس طریق پر خدا نے ان کو سمجھایا ہے۔تو اس حدیث سے اس آیت کریمہ کی تطبیق ہوتی ہے۔صلى الله