خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 966 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 966

خطبات طاہر جلد ۱۲ 966 خطبہ جمعہ ۷ار دسمبر ۱۹۹۳ء طرف نظر ڈالیں اور ذکر کی طرف توجہ مبذول نہ ہو۔اگر امراء القیس کے لئے ایک منزل اس حد تک محبوب کی یاد دلاتی تھی جو اپنے ساتھیوں کو ساتھ ملا کر وہاں ٹھہر کر رونا چاہتا تھا تو ہمیں تو ساری کائنات کا ایک ایک ذرہ اللہ کی یاد دلاتا ہے۔یعنی اس مومن کو یاد دلاتا ہے جس کو بصیرت ہو اور اللہ کی محبت سے انسان کی آنکھیں اگر ہمیشہ ظاہر اتر نہ بھی رہ سکیں تو بسا اوقات دل میں یوں معلوم ہوتا ہے جیسے دل اندر سے محبت میں پکھل کر روتا ہے۔اور ظاہر آنسو نہ بھی برس رہے ہوں تو ایک محبت کی بارش اندر کی طرف ہوتی ہے اور ہر اہلِ تجربہ یہ جانتا ہے کہ ضروری نہیں کہ آنسو آ نکھوں کے رستے ہیں جو پیار اور محبت کی باتیں ہوتی ہیں ان میں دل نرم ہو کے پکھل جاتا ہے اور قرآن کریم نے اسی قسم کے نقشہ کھینچے ہیں کہ بعض دفعہ دل پگھل جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی فرماتے ہیں کہ روح آستانہ الوہیت پر بہنے لگتی ہے تو آنسو جس طرح بہتے ہیں اسی طرح دل پگھل کر آستانہ الوہیت پر بہنے لگتا ہے اور یہ جو موقع ہے۔یہ کوئی ایک موقع نہیں بلکہ ساری کائنات میں ہر طرف یہ مواقع پھلے پڑے ہیں۔صبح سے رات تک انسان جتنا بھی سوچے خدا تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید کے بے حد بے شمار مضمون اس کی نظر کے سامنے آتے ہیں اور ان کا انسان حق ادا نہیں کر سکتا۔حضرت اقدس محمد مصطفی ماہ کی کیفیت یہ تھی کہ دن رات ہمہ تن ہمیشہ ہر بات میں اللہ ہی کی یاد آپ کو آتی تھی اور اللہ ہی کی یاد میں محورہ کر آپ نے زندگی گزاری ہے۔تمام دنیا سے تعلقات اللہ تعالیٰ کی یاد کے حوالہ سے ہوتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے نتیجے میں آپ کی محبتیں تھیں۔اللہ تعالیٰ کی آنکھیں جس سے پھرتی تھیں آنحضرت ﷺ کی آنکھیں بھی اس سے پھر جاتی تھیں۔گویا خدا نما وجود ان معنوں میں تھے کہ جہاں آپ کی محبت کی نظر پڑی ضرور وہاں خدا کی محبت کی نظریں پڑتی تھیں۔جس کو آپ نے ناراضگی کی آنکھ سے دیکھا خدا کی ناراضگی کی آنکھ بھی اس کو اسی طرح دیکھتی تھی اور یہ دوطرفہ مضمون ہے۔ذکر کرنے والے بعض دفعہ اس طرح ان سے محبت کرتے ہیں کہ ان کو علم ہوتا ہے کہ خدا ان صلى الله سے محبت کر رہا ہے اور اس کے نتیجے میں محبت پیدا ہوتی ہے۔بعض دفعہ ان کو کسی سے محبت پیدا ہوتی ہے تو خدا ان سے ضرور محبت کرتا ہے اور یہ مضمون حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ نے ہمارے سامنے خوب کھول دیا ہے اس لئے اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا کے پیارے ہمہ وقت یہ کوشش کرتے ہیں کہ