خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 93
خطبات طاہر جلد ۱۲ 93 خطبہ جمعہ ۲۹/ جنوری ۱۹۹۳ء میں اپنے وعدے بیان کرتا تھا تا کہ وہ اور ان کے ہم مزاج لوگ یہ نظر رکھ کر کہ اس کا اتنا وعدہ ہے اس سے دگنا تنگنا کرنے کی کوشش کریں۔اس کے علاوہ ان کے خاندان کے افراد اپنا وعدہ الگ بھجوایا کرتے تھے اور یہ بات ان کے چندہ دینے میں ہرگز مانع نہیں ہوا کرتی تھی کہ ہمارے ابا نے یا نا نا دادا نے اتنی بڑی رقم ادا کر دی ہے تو ہم سب شامل ہیں۔ان کے وصال کے بعد پھر ان کے خاندان کی طرف سے ذاتی اطلاعیں آنی بند ہو گئیں جس کی وجہ سے پیچھے مجھے کچھ پریشانی ہوئی۔میں نے کہا پتا تو کروں کہ کیا ہورہا ہے اور جب پتا کیا تو یہ تسلی ہوئی کہ الحمد للہ۔چوہدری صاحب مرحوم کے خاندان نے مثلا افریقہ انڈیا فنڈ میں 26 ہزار 12 پاؤنڈ کا وعدہ پیش کیا جبکہ میرا 15 ہزار کا تھا۔تو اس حد تک تو یہ بات تسلی بخش ہے کہ مجھ سے کافی بڑھ کر یہ رقم پیش کی گئی لیکن وہ بات نہیں رہی کہ چوہدری صاحب اپنا الگ دیں اور باقی پھر بعد میں اسی طرح اپنی اپنی جگہ کوشش کریں اسی لئے میں نے شروع میں تمہید میں ذکر کیا تھا کہ جو نیکیاں کوئی شخص اپنی زندگی میں کرتا ہے ان نیکیوں کو اس کے نام پر جاری رکھنا ایک بڑی سعادت ہے اور حضرت مصلح موعودؓ کی اولا د بھی اللہ کے فضل سے اس سعادت کو نہیں بھولی اور ایک بھی حضرت مصلح موعود کا ایسا چندہ نہیں جو آپ نے اپنی زندگی میں دیا ہو اور بعد میں اولاد نے مل جل کر اور الگ الگ اسے بڑھا کر پیش نہ کیا ہو جو چندے بعد میں آئے ہیں وہ بعد کی باتیں ہیں لیکن زندگی میں جو چندے جاری ہو گئے تھے ان کے متعلق میں یہ کہہ رہا ہوں کہ انسان کو ضرور یہ کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے بزرگ آباؤ اجداد اپنے محسنوں کے نام اپنی محبت کا تحفہ بھیجنے کا جوطریق خدا نے ان کو مہیا فرمایا ہے اس سے وہ فائدہ اُٹھا ئیں جب یہ روحانی بینکنگ سسٹم جاری ہے۔تو ایک جگہ آپ جو رقم جمع کرائیں گے وہ دوسری جگہ لازما پہنچے گی اگر وہ طریق منظور شدہ اور مسلّم ہو اور جب اس طریق کو حضرت محمد ﷺ کی تصدیق حاصل ہوگئی ہے تو پھر آپ کو کیا جھجک ہے اس دنیا میں جمع کروا ئیں تو اس دنیا میں لازماً ان کو خوشخبریاں ملیں گی اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ بعض دفعہ ان کے رد عمل کو تصویری زبان میں خوابوں میں دکھا بھی دیتا ہے۔ماریشس کے ہمارے ایک احمدی دوست ہیں کل ہی ان کا ایک خط ملا کہ میں نے ایک رقم اپنے بزرگ والدین کی طرف سے ایک خاص مقصد کے لئے جماعت کے لئے پیش کی ، کافی بڑی رقم تھی۔کہتے ہیں کہ اسی رات میرے والد