خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 92
خطبات طاہر جلد ۱۲ 92 خطبہ جمعہ ۲۹/ جنوری ۱۹۹۳ء دینے کا نام ہے اس سے میں ضمناً آپ کو یہ بھی بتاؤں کہ آنحضرت ﷺ نے انسانی تعلقات میں بھی قرضہ حسنہ میں اللہ کے رنگ اختیار کرنے کی تلقین فرمائی کہ جب تم اپنے بھائی سے کچھ لیتے ہو تو کوشش کرو کہ جب واپس کرو تو کچھ بڑھا کر دو اور اس مصیبت میں نہ ڈالو کہ وہ تقاضے کر رہا ہے، پیچھے پڑا ہوا ہے بار بار کے پھیرے لگا رہا ہے اور تم وقت کو بھی آگے آگے ٹالتے جاتے ہو اور خود بھی اس سے دور بھاگتے جاتے ہو وقت پر دیا کرو، وعدوں کو پورا کرو ساتھ ہی جتنا لیا ہے اس سے زیادہ دینے کی کوشش کرو۔میں سمجھتا ہوں کہ اموال میں برکت کے لئے یہ بہترین نسخہ ہے خدا کی خاطر انسان مالی قربانی کرے اور اس کے بندوں سے یہ سلوک کرے کہ جب ان سے لے، ان کو بڑھا کر واپس کرنے کی کوشش کرے اگر کوئی یہ نسخہ استعمال کرے تو وہ دنیا میں غریب رہ ہی نہیں سکتا اس کے اموال میں غیر معمولی برکت ہوگی۔بہر حال اب میں چندوں کے متعلق مختصر یہ بتاتا ہوں کہ جو تحریک کی گئی تھی وہ پانچ کروڑ کی تھی شروع میں تین سال کی مدت مقر تھی اس کے بعد بعض جماعتوں کے اصرار پر اسے بڑھا کر پانچ سال پر مند کر دیا گیا پانچ کروڑ کی تحریک کے جواب میں جو کل وعدے موصول ہوئے اگر پاکستانی روپوؤں میں تمام دنیا کی کرنسی کو منتقل کیا جائے تو 6 کروڑ 35لاکھ 95 ہزار 8 سو یعنی تقریباً 16 کروڑ 36لاکھ کے وعدے تھے پاؤنڈوں میں یہ 15 لاکھ 89 ہزار 8سو 95 کے وعدے بنتے ہیں تین سال اس میں سے گزر چکے ہیں چوتھا سال شروع ہو چکا ہے۔ابھی تک وصولی میں کمزوری ہے چنانچہ کل وصولی 6 کروڑ 35لاکھ یا 36لاکھ کے مقابل پر 3 کروڑ کے لگ بھگ ہوئی ہے (یعنی 3 کروڑ ایک لاکھ اور پاؤنڈوں میں 15 لاکھ 89 ہزار کے مقابل پر 7لاکھ 54 ہزار کی وصولی ہوئی ہے گویا نصف سے کچھ زائدا بھی ادا ئیگی باقی ہے۔اس ضمن میں یہ عرض کر دوں کہ بعض احمدی مخلصین کا یہ طریق تھا اور ابھی بھی ہے کہ جماعت کو دینے کے علاوہ وہ اپنے وعدے براہ راست مجھے بھیجا کرتے تھے اس سے ایک قسم کا ذاتی روحانی تعلق بھی ان کے ساتھ قائم رہتا ہے اور نظر بھی رہتی ہے کہ کون کس توفیق کا آدمی ہے اور اپنی توفیق کی نسبت سے کتنا خرچ کر رہا ہے۔اس سلسلہ میں مجھے یاد ہے کہ چوہدری شاہ نواز صاحب مرحوم مغفور تحریک سنتے ہی بلا استثناء ہمیشہ فوراً رقعہ بھیج کر اپنا وعدہ لکھوایا کرتے تھے اور جو وعدہ میں اپنا لکھواتا تھا ہمیشہ اس سے کافی بڑھا کر وعدہ لکھواتے تھے ، اس لئے ان کی زندگی میں خصوصیت سے