خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 956 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 956

خطبات طاہر جلد ۱۲ 956 خطبه جمعه ۱۰ر دسمبر ۱۹۹۳ء کرنے والے ہوا گر سچا عشق ہے تو یہ ہو نہیں سکتا کہ خدا تمہارا ذکر نہ کرے۔ جب ایک پیارے کا ذکر کرتے ہو تو پیارا تمہارا ذکر کرتا ہے۔ اگر اس کو قبول کرلے اگر وہ قبول نہ کرے تو اس کی کوڑی کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔ ما میں کہتی ہیں ہمارے بچے نے ہے مائیں کہتی ہیں ہمارے بچے نے ہمیں اس طرح یاد کیا اس لئے کہ ان کو پیار ہوتا ہے اور کوئی بے حیا اگر ان کا ذکر کرتا تو وہ اس کے ذکر سے شرماتیں ہیں بجائے اس کے کہ اس کا ذکر کریں۔ پس خدا تعالیٰ کے حضور اپنے ذکر کا مقام معلوم کرنا ہو۔ یہ مراد ہے تو ذکر کر کے دیکھو اگر م خدا کا جواب ملے گا ویسا ہی سلوک اللہ تم سے فرمائے گا تو یقین کرنا کہ پھر تم صحیح رستے پر چل رہے ہو اور تمہارا ذ کر سچا تھا۔ فلينظر كيف منزلة الله تعالى عنده فان الله تعالى ينزل العبد منه حيث انزله من نفسه “ ( حديقة الصالحين :٩٢) اور یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو وہی مقام اپنے پاس عطا فرماتا ہے جیسا خدا کا مقام اس بندے کے ہاں ہے۔ یعنی جو سچی عزت اللہ کی کی ہے جو سچا مقام اس کو اپنے دل میں دیا ہے۔ ویسا ہی مقام تمہارا خدا کے دل میں بنتا چلا جائے گا۔ پھر حضرت ابی رزین کی روایت ہے کہ انه قال رسول الله صلى الله عليه وعلى آله وسلم۔ که آنحضرت صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ابی رزین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ الا ادلک علی مليك هذا الامر الذى تصيب به خير الدينا والآخرة “ کہ ابی رزین کیا میں تجھے وہ بنیاد نہ بتاؤں جس پر اس امر کا انحصار ہے کہ تو دنیا میں بھی خیر پا جائے اور آخرت میں بھی خیر پا جائے۔ ملیک کہتے ہیں وہ چیز جس پر کسی چیز کی بنا ہو۔ فرمایا میں ** تمہیں اس بات کی بنیاد نہ بتا دوں ۔ جس پر یہ بات منحصر ہے، جس بنیاد پر کہ تجھے دنیا میں بھی خیر پہنچے اور آخرت میں بھی خیر پہنچے۔ یہ سوال اٹھانے کے بعد جواب کا انتظار کئے بغیر آنحضرت ﷺ نے پھر وہ بنیاد کی وضاحت فرمانی شروع کی ۔ فرمایا۔ صلى الله علیک بمجالس اهل الذکر تجھ پر فرض ہے کہ وہ مجلسیں جو اللہ کے ذکر کے لئے