خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 955 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 955

خطبات طاہر جلد ۱۲ 955 خطبه جمعه ۱۰/ دسمبر ۱۹۹۳ء اس کی کھلی چھٹی ہے تو ایسے پیارے جن کو یقین ہو کہ ہر حال میں ہم سے پیار کرنے والا ضرور پیار کرے گا۔بجائے پاک وصاف ہونے کے گنہ گار ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ایسے بچے جو ماں باپ کی اندھی محبت پر ایمان رکھتے ہوں اور یہ دعوے کرتے پھریں کہ ہم فلاں کے بیٹے ہیں کون ہے جو ہمیں پوچھ سکے، ہم جو چاہیں کریں۔وہ بھٹک جایا کرتے ہیں اور اکثر ان کا انجام گنہگاری پر ہوتا ہے یا جرائم پر ہوتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی محبت ایسی نہیں ہے کہ کوئی قوم ایسا دعوی کر بیٹھے کہ ہم خدا کے احباء ہیں کون ہے جو ہم پہ ہاتھ ڈال سکے۔کون ہے جو ہم پہ تنقید کرے ہم جو چاہیں کرتے پھریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہمیں سمجھا رہے ہیں کہ اللہ سے تعلق ایسے نہیں ہوا کرتے۔تم خدا کا ذکر کیا کرو اور پھر اس ذکر کے نتیجے میں تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ تمہارا اللہ سے کیا تعلق ہے۔اللہ کو تم کیسے پیارے ہو۔یہ مضمون بہت گہرا ہے۔قرآن کریم کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے۔فَاذْكُرُونِي اَذْكُرُكُمْ کہ اے میرے بندو! میرا ذکر کیا کرو میں اس کے جواب میں تمہارا ذکر کروں گا۔پس اگر ایک انسان سچا ذکر کرتا ہے اور اس ذکر کے نتیجے میں خدا اس وعدے کو پورا فرما تا ہے کہ میں تمہارا ذکر کروں گا۔تب اس کی علامتیں اس کو دکھائی نہ دیں۔تو اس کو صاف معلوم ہونا چاہئے کہ اس کا خدا کے ہاں کوئی مقام نہیں ہے یعنی اس کے ذکر ہی کوکوئی حیثیت نہیں ہے۔پس اپنے ذکر کی حیثیت پہچاننے کے لئے آنحضرت نے کیسا معرفت کا نقطہ ہمارے سامنے رکھا کہ اس آیت کریمہ کی روشنی میں اگر تم اپنا مقام اپنا مرتبہ خدا کے حضور معلوم کرنا چاہتے ہو کہ تمہاری منزل خدا کے حضور ہے کیا۔تو ذکر کرو اور پھر اس کا جواب تمہیں ضرور ملے گا۔یہ بات اس میں حذف ہے پر شامل ہے۔مگر جس طرح میں نے آیت کریمہ بیان کی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم کی کوئی بھی نصیحت بغیر اللہ تعالیٰ کے کسی فرمان کے اپنی ذات میں آپ کے وجود سے نہیں پھوٹا کرتی تھی۔ہر نصیحت کا منبع اللہ تعالیٰ کا کوئی الہام، کوئی وحی ہوا کرتا تھا۔اور احادیث کو اگر قرآن کریم میں تلاش کریں تو ہر حدیث کی جڑ آپ کو قرآن کریم میں ملے گی۔پس اس پہلو سے اس آیت کریمہ سے ملا کر اس حدیث کا یہ مطلب سمجھتا ہوں کہ تم اگر سچا ذکر