خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 954
خطبات طاہر جلد ۱۲ 954 يارسول الله ما رياض الجنة۔( حديقة الصالحين صفحه :۹۲) خطبه جمعه ۱۰/ دسمبر ۱۹۹۳ء حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ایک دفعہ باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ اے لوگو ! جنت کے باغات میں چرو، جس طرح بھیٹر بکریاں چرتی ہیں۔ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ جنت کے باغ ہے کیا چیز ؟ جہاں جا کر ہم چریں۔فرمایا۔قـال مـجـالــس الذکر ، ذکر کی مجلسیں ، ذکر کی مجلس لگاؤ۔جو پہلا مضمون تھا وہ اکیلے یاد کرنے کا تھا۔یہاں مجلسوں میں یاد کرنے کا ذکر ہے اور اسے ریا کاری نہیں فرمایا گیا بلکہ محبت کے تقاضے کے نتیجے میں بعض دفعہ دو عشاق ایک دوسرے سے مل بیٹھتے ہیں۔جیسے ایک شاعر نے کہا ہے کہ آ عند لیب مل کے کریں آہ وزاریاں تو ہائے گل پکار ہم چلا ؤں ہائے دل تو محبت میں یہ مضمون شامل ہے کہ بعض دفعہ تنہائی میں علیحدہ ہو کر ایک مجنون صحراؤں میں نکل جاتا ہے اپنے محبوب کی یاد میں، کبھی وہ اپنے جیسوں کی تلاش کرتا ہے کہ آؤ مل بیٹھ کر اپنے پیارے کا ذکر کریں۔تو ریاض فرمایا جس کا مطلب ہے باغ۔ایسی جگہ جہاں ایک جیسے اور بھی بہت سے وجود پائے جاتے ہیں ملتے جلتے خوبصورت پھول اکٹھے کئے جاتے ہیں۔تو فرمایا کہ ریاض الجنۃ میں جاکر چرا کرو۔پوچھا وہ ریاض الجنۃ کیا ہے تو فرمایا کہ ذکر کی مجالس لگاؤ۔قال اغذوا وروحا وذكروا من كان يحب ان يعلم منزلته عند الله تعالى۔(حديقة الصالحين : ۹۲) فرمایا صبح بھی ایسا کرو اور شام کو بھی ایسا کرو اور اللہ کو ہر وہ شخص یاد کرے من كان يحب ان يعلم منزلته عند اللہ تعالیٰ۔اگر وہ یہ چاہتا ہے کہ اپنے مقام کو خدا کے حضور معلوم کرے کہ وہ ہے کیا ؟ یہ بہت ہی گہرا امضمون ہے اس پر ٹھہر کر غور کریں تو پھر آپ کو سمجھ آئے گی کہ کتنا عظیم نقطہ سمجھایا جا رہا ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمیں خدا سے تعلق ہے خدا کو بھی ہم سے تعلق ہوگا اور بعض تعلق نہ ہونے کے باوجود بھی سمجھتے ہیں کہ خدا کا ہم سے لازم ہے تعلق۔جیسے یہود دعوی کیا کرتے تھے یا عیسائی ایک زمانے میں دعوی کیا کرتے تھے کہ ہم ہی ہیں جو خدا کو پیارے ہیں۔جو چاہئیں ہم کرتے پھریں ہمیں