خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 951 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 951

خطبات طاہر جلد ۱۲ 951 خطبه جمعه ۱۰/ دسمبر ۱۹۹۳ء چاہئے۔کسی نے یہ حدیث پڑھ لی اور فرض کریں کسی مجلس میں بیٹھا ہوا نعرہ ہائے تکبیر بلند ہورہے ہیں۔اٹھ کے کھڑا ہو گیا کہ آپ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔تو اکثر تھر دل لوگ، چھوٹے دل لوگ چھوٹے سے علم پر اچھل جاتے ہیں اور بے وجہ اٹھ کر اعتراضات شروع کر دیتے ہیں۔اس لئے میں آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ آنحضور کے کلام کو نہ صرف گہرائی میں جا کر اس کا معنی تلاش کرنے کی کوشش کریں بلکہ اس کے گرد و پیش پر بھی نظر ڈالا کریں۔کون سا موقع تھا کیا محل تھا جس میں وہ بات فرمائی گئی اور اس کے مطابق پھر نتیجہ اخذ کیا کریں۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے۔عن ابی هریره رضى الله تعالى عنه عن النبي صلى الله عليه وعلى آله و سلم قال سبعة يظلهم الله تعالى في ظله يوم لا ظل الا ظله الامام العادل وشاب نشأ بعبادة الله ورجل قلبه معلق بالمساجد۔(مسلم کتاب الزکوۃ حدیث نمبر:۱۷۱۲) یعنی حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا کہ سات ایسے انسان ہیں جن پر ایک ایسے دن خدا کا سایہ ہو گا جس دن خدا کے سائے کے سوا کوئی اور کوئی سایہ نہیں ہو گا۔مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔جبکہ سب ملکیتیں خدا کی طرف لوٹ جائیں گی۔کوئی مجازی سایہ بھی میسر نہیں ہو گا سوائے خدا کے سائے کے۔فرمایا سات ایسے انسان ہیں جن کو وہ سایہ نصیب ہو گا جن پر خدا کی رحمت سایہ فگن ہوگی۔امام عادل امام ہو اور عادل ہو ، عدل کرنے والا ہو۔یہاں یہ نہیں فرمایا کہ ایسا امام ہو جو شریعت کے مطابق حکومت کرے۔حکومت کا خلاصہ یہ ہے کہ عدل ہو اور وہی امام خدا کے سایہ فضل تلے ہو گا۔جو عدل سے حکومت کرے۔پھرفرمایاوشاب نشاء في عبادتة الله تعالیٰ۔اور وہ جوان جو جوانی ہی میں راتوں کو اٹھ کے خدا کی عبادت کرنے والا ہو۔و رجل قلبه معلق بالمساجد اور ایسا شخص جس کا دل مسجدوں میں انکا ر ہے۔ایک نماز کے بعد دوسری، دوسری کے بعد تیسری، چوتھی ، پانچویں اور پھر دوبارہ یہی سلسلہ شروع۔ہر روز ہر وقت نماز کی طرف دھیان رہے کہ اب کون سی نماز آنے والی ہے اب کون سی نماز آنے والی ہے اور بار بار مسجدوں کے پھیرے لگانے والا ہو۔فرمایا ایسا شخص بھی