خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 944
خطبات طاہر جلد ۱۲ 944 خطبه جمعه ۱۰/ دسمبر ۱۹۹۳ء مسنون دعاؤں کے بعد اپنے لئے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو۔اس سے تمہیں اطمینانِ قلب حاصل ہو گا اور سب مشکلات خدا تعالیٰ چاہئے گا تو اسی سے حل ہو جائیں گی۔نماز یاد الہی کا ذریعہ ہے۔اس لئے فرمایا ہے اَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِی نماز کو میری یاد کے لئے قائم کرو۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ: 310,311) حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم کا ذکر کا طریق کیا تھا اور ذکر کے تعلق میں کیا نصیحت فرمایا کرتے تھے۔اب میں احادیث کی روشنی میں اس مضمون پر روشنی ڈالتا ہوں۔عن جابر رضی الله تعالى عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وعلى آله و سلم يقول افضل الذكر لا اله الا الله وافضل الدعاء الحمد لله ترندى كتاب الدعوات حدیث نمبر : ۳۳۰۵) جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔انہوں نے کہا میں نے رسول اکرم ﷺ کو سنا یہ کہتے ہوئے کہ سب سے افضل ذكر لا اله الا الله ہے۔وافضل الدعاء الحمد لله اور دعاؤں میں سے اعلیٰ دعا الحمد للہ ہے۔یہاں افضل الذكر لا اله الا الله جو قرار دیا ہے۔اس کے متعلق میں پہلے تو حید کے مضمون پر خطاب کرتے ہوئے روشنی ڈال چکا ہوں۔دراصل اس میں ہر قسم کا منفی اظہار بھی شامل ہے جوذ کر کے ساتھ ضروری ہے یعنی لا الہ الا اللہ میں اور ہر قسم کا مثبت اظہار بھی شامل ہے جو ذ کر کے لئے ضروری ہے۔منفی ان معنوں میں کہ خدا سو جتنے تعلقات ہیں ان سب کی نفی کر دی جائے۔اور ہر قسم کے معبود کی نفی لا الہ میں نفی جنس ہے اور اور بھی نفی کے سب مضامین شامل ہیں۔اله کہتے ہیں ایسا وجود جس کے سامنے انسان اپنی انا کو جھکا دیتا ہے۔اور تو ڑ دیتا ہے ہر دوسرے تعلق میں آنا کا کوئی نہ کوئی پہلو باقی رہتا ہے اور بعض موقع انسان اختلاف کی صورت میں کہتا ہے اچھا جاؤ بھاڑ میں جاؤ تم ادھر اور میں ادھر۔لیکن معبود کے ساتھ تعلقات میں یہ تعلق قطع کرنے کا کوئی امکان داخل نہیں ہے کیونکہ انا تو ڑ کر یہ تعلق رکھا جاتا ہے۔تبھی اس کا اعلیٰ نشان سجدے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔انسان اپنے وجود کو ماتھے کومٹی میں ملا کر اور اپنے وجود کو زمین پر پھنک کر بتاتا ہے