خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 945 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 945

خطبات طاہر جلد ۱۲ 945 خطبه جمعه ۱۰/ دسمبر ۱۹۹۳ء کہ میں کچھ بھی نہیں رہا میر اسب کچھ مٹ گیا ہے۔دوسرا اللہ میں محبت کا مضمون بھی پایا جاتا ہے۔خواہش کی انتہاء کا تو ایسا وجود جس کے ساتھ تمام تر محبتیں وابستہ ہوں تمام تمنا ئیں وابستہ ہوں تمام خواہشات کا مرجع ومنبع ہو ایسے وجود کو بھی اللہ کہا جاتا ہے۔پس اللہ سے ملتا جلتا لفظ ہی خواہشوں کے لئے عربی میں پایا جاتا ہے۔تو لا الہ کا مطلب یہ بنا کہ کوئی بھی ایسا وجود نہیں۔جس کے سامنے میں نے اپنی انا توڑی ہو اور اپنے وجود کو مٹا دیا ہواس طرح کہ میری کوئی حیثیت نہیں اور میں اس بے حیثیتی میں دوسرے کے سامنے جھک گیا ہوں۔اور اس کی ہر بات کو تسلیم کروں گا۔خواہ وہ خدا کی طرف سے ہو یا نہ ہو اور نہ محبت ایسے وجود سے رکھتا ہوں جس کے بعد میری ساری محبتیں تمام تر اس کے لئے ہو جائیں اور کسی اور کی محبت کی براہ راست گنجائش باقی نہ رہے۔یہ جو براہ راست کا لفظ میں نے داخل کیا ہے۔یہ اس لئے کہ جب ہم آگے بڑھیں گے ذکر کے مضمون میں تو حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم انسانی تعلقات میں محبت کی نفی نہیں فرماتے مگر اس کو ایسے رنگ میں بیان فرماتے ہیں کہ اللہ کی محبت اس کے مقابل پر نہیں رہتی۔اس میں شامل ہو کر وہ محبت ظاہر ہوتی ہے۔تو جب وہ موقع آئے گا تو آپ اس کو سنیں گے۔پس یہ کہنا درست ہے کہ اللہ میں ہر قسم کی محبتوں کا مرکز کا مضمون پایا جاتا ہے اور ہم یہ اقرار کرتے ہیں کہ تیرے سوا تیری محبت کے سوا ہماری کوئی محبت باقی نہیں رہی۔ایسا وجود ہے جس کے سامنے جب جھکتے ہیں۔تو خوف سے بھی جھکتے ہیں، طمع سے بھی جھکتے ہیں۔ہرقسم کی تمنا ئیں اس سے وابستہ ہو جاتی ہیں ہر قسم کے تعلقات اس سے باندھے جاتے ہیں۔تو ان سب کی اللہ کے سوانفی کر دینا یہ سب سے بڑا ذکر ہے۔ذکر کا ایک پہلو یعنی۔اور پہلو سے تفصیل سے میں روشنی ڈال چکا ہوں۔کہنے کو تو چھوٹی سی بات ہے یعنی تھوڑے وقت میں کہی جاسکتی ہے۔مگر غور کریں تو ساری زندگی غور کریں اور تلاش کرتے رہیں آپ کو کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی قسم کے اللہ ملتے ہی رہیں گے۔جن کے سامنے آپ نے سرجھکایا ہو گا یا جن کی محبت سے آپ وابستہ ہو گئے ہوں گے اور اس میں اللہ کی محبت کا دخل نہیں ہو گا۔پس مضمون بہت وسیع ہے اور ساری زندگی پر چھایا ہوا ہے اور ہر دفعہ ذکر کے وقت اس پہلو کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے ورنہ لا الہ الا اللہ کا مضمون صادر نہیں ہوتا یعنی اطلاق نہیں پاتا۔پس